ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 385

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸۵ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ جہاں تک ممکن ہے مؤلفین صحاح نے حدیثوں کی تنقید و تفتیش میں بڑی بڑی کوششیں کی ۵۳۰) ہیں مگر پھر بھی ہمیں ان پر وہ بھروسا نہیں کرنا چاہیے جو اللہ جل شانہ کی کلام پر کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کئی واسطوں سے اور معمولی انسانوں کے ہاتھوں سے دست مال ہو کر آئمہ حدیث کو ملی ہیں مثلاً ایک حدیث کا راوی عمر رضی اللہ عنہ ہے جو خلیفہ رسول اللہ اور رئیس الثقات ہے چونکہ چھ سات راوی درمیان میں ایسے ہیں جو ان کا تزکیہ نفس اور کمال طہارت ثابت نہیں اور اُن کی راستبازی اور خدا ترسی اور دیانت گوسرسری نظر سے بطور حسن ظن تسلیم کی گئی ہومگر بانکشاف تام کچھ ثابت نہیں سو وہ کیوں کر راستبازی میں حضرت عمر کے قائمقام سمجھے جائیں گے اور کیوں جائز نہیں کہ انہوں نے عمداً یا سہواً بعض احادیث کی تبلیغ میں خطا کی ہو۔ اسی نظر سے بعض ائمہ نے احادیث کی طرف توجہ کم کی ہے جیسا کہ امام اعظم کوفی رضی اللہ عنہ جن کو اصحاب الرائے میں سے خیال کیا گیا ہے اور ان کے مجتہدات کو بواسطہ وقت معانی احادیث صحیحہ کے بر خلاف سمجھا گیا ہے۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم و فراست میں ائمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل و اعلیٰ تھے اور اُن کی خداداد (۵۳۱ ہے قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت عدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد واستنباط میں اُن کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔ سبحان اللہ اس زیرک اور ربانی امام نے کیسے ایک آیت کے ایک اشارہ کی عزت اعلیٰ وارفع سمجھ کر بہت سی حدیثوں کو جو اس کے مخالف تھیں رڈی کی طرح سمجھ کر چھوڑ دیا اور جہلا کے طعن کا کچھ اندیشہ نہ کیا مگر افسوس کہ آج وہ زمانہ ہے کہ بے سر و پا اقوال قرآن شریف پر مقدم سمجھے جاتے ہیں اور ایک بے اصل لکیر کو اجماع کی صورت میں خیال کیا جاتا ہے اور اگر چہ قرآن کریم کی نصوص بینہ