ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 383

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۸۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اور ابن آدم کہلا کر اور آدمی کا ہم جنس ہو کر اس کو یہ استحقاق بنی نوع کی ہمدردی کا پیدا ہوا ہے ہاں یہ ممکن ہے کہ یہ حجت پیش کی جائے کہ مسیح کا ایک اور بھائی تھا کہ جوا بن آدم نہیں بلکہ ابن جن کہلاتا تھا وہ جنات کے کفارہ کے لئے مصلوب ہوا تھا مگر پھر بھی انجیل کی رو سے کوئی ثبوت پیش کرنا پڑے گا۔ ایسا ہی قرآن کریم نے ہندوؤں پر بھی بہت سی صداقتیں ظاہر کی ہیں اور وہ قیوم العالمین جس سے وہ بے خبر تھے ان کا انہیں پتہ دیا ہے اگر وہ لوگ اس صداقت کو قبول کرتے تو اس خدا کو دیکھ لیتے جس کی عظمت و قدرت سے وہ غافل ہیں لیکن انہوں نے انگریزوں کے فلسفہ جدید ہ کو دیکھ کر فلسفی بنا چاہا اور ہر یک چیز کے اسباب تلاش کرنا شروع کئے تا قرآن کریم (۵۲۷) کی حقانی فلاسفی کے ساتھ مقابلہ کریں مگر یہ حرکت اُن کے لئے بڑی سرگشتگی کا موجب ہوئی اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے اپنے اعتقادات اور اعمال کی نسبت جو دید کی تعلیم کے رو سے اُن کے ایمان میں داخل ہیں دو بُرے نمونے ظاہر کر دئے۔ اعتقاد کی نسبت یہ نمونہ کہ خدائے تعالی کی خالقیت کی نسبت انکار کر کے اس کے وجود کے پتہ لگنے کی راہیں اپنے پر بند کر دیں اور دنیا کے ذرہ ذرہ اور تمام ارواح کو خود بخود اور قدیم اور واجب الوجود سمجھ کر تو حید کے اس دقیق راز کو چھوڑ دیا جس پر سچی معرفت اور سچا گیان اور سچی مکتی موقوف ہے اور اعمال کی نسبت یہ نمونہ کہ نیوگ کا ایک قابل شرم مسئلہ جو ویدوں میں چھپا ہوا چلا آتا تھا جس کے رو سے ایک شوہر دار عورت کسی آریہ کی اولاد حاصل کرنے کی غرض سے کسی غیر آدمی سے ہم بستر ہو سکتی ہے اپنی کتابوں میں شائع کیا۔ اگر ایسے اعتقاد کو ایک مختص الزمان قانون کی طرح سمجھتے تو شاید اس کی قباحت کسی قدر نرم ہو جاتی مگر اب تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے اور ہر زمانہ کے لئے ایک غیر متبدل قانون کی طرح سمجھا گیا ہے جو ویدوں کی طرح (۵۲۸) انا دی چلا آیا اور انا دی ہی رہے گا ۔ پس یہ قرآن کریم کی مخالفت کی سزا ہے جس کو ہم