ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 353
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۳ نورافشاں مطبوعہ ۲۳ / اپریل کا اعتراض ازالہ اوہام حصہ دوم پر چه نور افشان میں مسیح کے صعود کی نسبت یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ مسیح کے صعود کی نسبت گیارہ شاگر د بچشم دید گواہ موجود ہیں جنہوں نے اُسے آسمان کو جہاں تک حد نظر ہے جاتے دیکھا۔ چنانچہ معترض صاحب نے اپنے دعوے کی تائید میں رسولوں کے اعمال باب اول کی یہ آیتیں پیش کی ہیں۔ (۳) اُن پر ( یعنی اپنے گیارہ شاگردوں پر ) اُس نے (یعنی مسیح نے ) اپنے مرنے کے پیچھے آپ کو بہت سی قومی دلیلوں سے زندہ ثابت کیا کہ وہ چالیس دن تک انہیں نظر آتا رہا اور خدا کی بادشاہت کی باتیں کہتا رہا۔ اور اُن کے ساتھ ایک جاہو کے حکم دیا کہ یروشلم سے باہر نہ جاؤ اور وہ یہ کہہ کے اُن کے دیکھتے ہوئے اُوپر اُٹھایا گیا اور بدلی نے اُن کی نظروں سے (۴۷۳ کے چھپا لیا۔ اور اس کے جاتے ہوئے جب وے آسمان کی طرف تک رہے تھے دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ہوئے اُن کے پاس کھڑے تھے (۱۱) اور کہنے لگے اے جلیلی مردو تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے اُسی طرح جس طرح تم نے اسے آسمان کو جاتے دیکھا پھر آوے گا۔ اب پادری صاحب صرف اس عبارت پر خوش ہو کر سمجھ بیٹھے ہیں کہ در حقیقت اسی جسم خاکی کے ساتھ مسیح اپنے مرنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھایا گیا ۔ لیکن انہیں معلوم ہے یہ بیان لوقا کا ہے جس نے نہ مسیح کو دیکھا اور نہ اُس کے شاگردوں سے کچھ سُنا ۔ پھر ایسے شخص کا بیان کیوں کر قابل اعتبار ہو سکتا ہے جو شہادت رویت نہیں اور نہ کسی دیکھنے والے کے نام کا اُس میں حوالہ ہے۔ ماسوا اس کے یہ بیان سراسر غلط فہمی سے بھرا ہوا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن کلیل میں جا کر فوت ہو گیا ۔ لیکن یہ ہر گز سچ نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔ بلکہ اسی باب کی تیسری آیت ظاہر کر رہی ہے