ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 354
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۵۴ ازالہ اوہام حصہ دوم کہ بعد فوت ہو جانے کے کشفی طور پر مسیح چالیس دن تک اپنے شاگردوں کو نظر آتارہا۔ اس جگہ کوئی یہ نہ سمجھ لیوے کہ مسیح بوجہ مصلوب ہونے کے فوت ہوا کیونکہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے صلیب سے مسیح کی جان بچائی تھی بلکہ یہ تیسری آیت باب اول اعمال کی مسیح (۲۷۴) کی طبعی موت کی نسبت گواہی دے رہی ہے جو گلیل میں اس کو پیش آئی۔ اس موت کے بعد طبعی رہی ہے جو مسیح چالیس دن تک کشفی طور پر اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔ جو لوگ کشف کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ ایسے مقامات میں بڑا دھوکہ کھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے حال کے عیسائی بھی جو روحانی روشنی سے بے بہرہ ہیں اس عالم کشف کو در حقیقت عالم جسمانی سمجھ بیٹھے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مقدس اور راستباز لوگ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں اور اکثر صاف باطن اور پُر محبت لوگوں کو عالم کشف میں جو بعینہ عالم بیداری ہے نظر آ جایا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں خود یہ عاجز صاحب تجربہ ہے۔ بار ہا عالم بیداری میں بعض مقدس لوگ نظر آئے ہیں ۔ اور بعض مراتب کشف کے ایسے ہیں کہ میں کسی طور سے کہہ نہیں سکتا کہ اُن میں کوئی یه غنودگی یا خواب یا غفلت کا ہے بلکہ پورے طور پر بیداری ہوتی ہے اور بیداری میں گذشتہ لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے اور باتیں بھی ہوتی ہیں ۔ یہی حال حواریوں کی رویت کا ہے جو انہیں کشفی طور پر مسیح ابن مریم مرنے کے بعد جبکہ وہ جلیل میں جا کر کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا چالیس دن برابر نظر آتا رہا اور انہوں نے اس کشفی حالت میں صرف مسیح (۲۷۵) کو نہیں دیکھا بلکہ دو فرشتے بھی دیکھے جو سفید پوشاک پہنے ہوئے کھڑے تھے جس سے اور زیادہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ کشف کا ہی عالم تھا۔ انجیل میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کشفی طور پر حضرت موسیٰ اور حضرت بیچی کو بھی خواب میں دیکھا تھا۔ غرض اعلی درجہ کا کشف بعینہ عالم بیداری ہوتا ہے اور اگر کسی کو اس کو چہ میں کچھ داخل ہو تو ہم بڑی آسانی سے اس کو تسلیم کرا سکتے ہیں مگر محض بیگانوں اور بے خبروں کے مقابل پر کیا کیا جائے۔