ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 352
روحانی خزائن جلد۳ ۳۵۲ ازالہ اوہام حصہ دوم نصوص بینہ کے مخالف صریح پڑی ہوئی ہے صحیح بھی مان لیں اور اس کے معنے کو ظاہر پر ہی حمل کریں تو ممکن ہے کہ کوئی مثیل مسیح ایسا بھی ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ کے پاس مدفون ہو کیونکہ اس حدیث کی رو سے کہ جو علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل سے مثیلوں کی کمی نہیں اور ایسا ہی یہ آیت کریمہ بھی مثیلوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ے اور نیز قرائن قویہ کی وجہ سے بفرض صحت اس کو ایک استعارہ تسلیم کر کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ ایک اشارہ معیت اور اتحاد کی طرف ہے۔ مثلاً جو دشمن ہو اس کے لئے انسان کہتا ہے کہ اس کی قبر بھی میرے نزدیک نہ ہولیکن دوست کے لئے قبر کا بھی ساتھ چاہتا ہے اور مکاشفات میں اکثر ایسے امور دیکھے جاتے ہیں۔ ایک مدت کی بات ہے جو اس عاجز نے خواب میں (۴۷) دیکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ پر میں کھڑا ہوں اور کئی لوگ مرگئے ہیں یا مقتول ہیں ان کو لوگ دفن کرنا چاہتے ہیں۔ اسی عرصہ میں روضہ کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اس کے ہاتھ میں ایک سرکنڈہ تھا اور وہ اس سرکنڈہ کو زمین پر مارتا تھا اور ہر یک کو کہتا تھا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی ۔ تب وہ یہی کام کرتا کرتا میرے نزدیک آیا اور مجھ کو دکھلا کر اور میرے سامنے کھڑا ہو کر روضہ شریفہ کے پاس کی زمین پر اس نے اپنا سر کنڈہ مارا اور کہا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی ۔ تب آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ معیت معادی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جو شخص فوت ہونے کے بعد روحانی طور پر کسی مقدس کے قریب ہو جائے تو گویا اس کی قبر اس مقدس کی قبر کے قریب ہوگئی۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَعِلْمُهُ أَحْكَمُ الفاتحة : ٧،٦