ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 344
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۴ ازالہ اوہام حصہ دوم حدیثیں پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سو برس کے بعد کوئی شخص زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ سوسنت جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی فوت ہو گئے ہیں اور آخری زمانہ میں انہیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا لیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔ اس جگہ مجھے غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس مسئلہ میں شیعہ اور سنت جماعت میں جو اختلاف ہے اُس میں کسی تاریخی غلطی کو دخل نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ شیعہ کی روایات کی بعض سادات کرام کے کشف لطیف پر بنیاد معلوم ہوتی ہے چونکہ ائمہ اثنا عشر نہایت درجہ کے مقدس اور راستباز اور اُن لوگوں میں سے تھے جن پر کشف صحیح کے دروازے کھولے جاتے ہیں اس لئے ممکن اور بالکل قرین قیاس ہے جو بعض اکا بر ائمہ نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اس مسئلہ کو اُسی طرز اور ایسے رنگ سے بیان کیا ہو جیسا کہ ملا کی کی کتاب میں ملا کی نبی نے ایلیاہ نبی کے دوبارہ آنے کا حال بیان کیا تھا اور جیسا کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا شور مچا ہوا ہے اور در حقیقت مراد صاحب کشف کی یہ ہوگی کہ کسی زمانہ میں اس امام کے ہمرنگ ایک اور (۴۵۸) امام آئے گا جو اس کا ہم نام اور ہم قوت اور ہم خاصیت ہوگا گویا وہی آئے گا۔ پھر یہ لطیف نکتہ جب جسمانی خیالات کے لوگوں میں پھیلا تو اُن لوگوں نے موافق اپنی موٹی سمجھ کے سچ سچ یہی اعتقاد کرلیا ہو گا کہ وہ امام صد ہا برس سے کسی غار میں چھپا ہوا ہے اور آخری زمانہ میں باہر نکل آئے گا مگر ظاہر ہے کہ ایسا خیال صحیح نہیں ہے ۔ یہ عام محاورہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی کا ہمرنگ اور ہم خاصیت ہو کر آتا ہے تو کہتے ہیں کہ گویا وہی آ گیا ۔ متصوفین بھی اِن باتوں کے عام طور پر قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بعض اولیاء گذشتہ کی روحیں اُن کے بعد میں آنے والے ولیوں میں سماتی رہی ہیں اور اس قول سے اُن کا مطلب یہ ہے کہ بعض ولی بعض اولیاء کی قوت اور طبع لیکر آتے ہیں گویا وہی ہوتے ہیں۔