ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 345

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۵ ازالہ اوہام حصہ دوم (۱۹) سوال۔ اگر مسیح ابن مریم در حقیقت فوت ہو گیا ہے تو پھر کیا یہ بات جو تیرہ سو برس سے آج تک مشہور چلی آتی ہے کہ مسیح زندہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا آج غلط ثابت ہوگئی ؟ اما الجواب۔ پس واضح ہو کہ یہ بالکل افتراء ہے کہ تیرہ سو برس سے بالا جماع یہی مانا گیا ہے کہ مسیح جسم کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر سلف اور خلف کا کسی ایک (۳۵۹) بات پر اجماع ہوتا تو تفسیروں کے لکھنے والے متفرق قولوں کو نہ لکھتے لیکن کون سی ایسی تفسیر ہے جو اس بارہ میں اقوال متفرقہ سے خالی ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ مسیح نیند کی حالت میں اُٹھایا گیا اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ مر گیا اور اس کی روح اٹھائی گئی اور کبھی قرآن شریف کی غلطی نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت الى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى لے میں دراصل مُتَوَقِیكَ بعد میں ہوتا چاہیے اور رَافِعُكَ اِلَی اس سے پہلے ۔ اب ظاہر ہے کہ اگر اُن کا اجماع ایک خاص شق پر ہوتا تو اپنی تفسیروں میں مختلف اقوال کیوں جمع کرتے ۔ اور جب ایک خاص بات پر یقین ہی نہیں تو پھر اجماع کہاں۔ اور یہ اعتراض کہ تیرہ سو برس کے بعد یہ بات تمہیں کو معلوم ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت یہ قول نیا تو نہیں پہلے راوی اس کے تو ابن عباس ہی تھے لیکن اب خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پر اس قول کی حقیقت ظاہر کر دی اور دوسرے اقوال کا بطلان ثابت کر دیا تا قولی طور پر اپنے ایک عاجز بندہ کی اس طرح پر ایک کرامت دکھاوے اور تا عقلمند لوگ سمجھ جاویں کہ یہ رہبری خاص خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ اگر یہ معمولی فہم اور عقل کا کام ہوتا تو دوسرے لوگ بھی اس صداقت کو مع اس کے اُن سب دلائل س کے اُن سے کے جو ان رسالوں میں درج ہو چکے ہیں بیان کر سکتے۔ اب یہ تمام سوالات ختم ہوئے اور ان سوالات سے بجز اس کے کہ صداقت اور بھی (۴۲۰) ظاہر ہو اور چمکے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکا ۔ اس رسالہ کے ناظرین جو اوّل سے آخر تک اس رسالہ کو پڑھیں گے بخوبی یقین کر لیں گے کہ ہمارے مخالفین کے ہاتھ میں ال عمران : ۵۶