ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 343
روحانی خزائن جلد۳ ۳۴۳ ازالہ اوہام حصہ دوم كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ کے چھٹے دن کے قائم مقام ہے۔ سوضرور تھا کہ اس چھٹے دن میں آدم پیدا ہوتا جو اپنی روحانی پیدائش کی رو سے مثیل مسیح ہے اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل مسیح اور نیز آدم الف ششم کر کے بھیجا جیسا کہ اُس نے فرمایا جو براہین میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت آدم یعنی میں نے ارادہ کیا جو اپنا خلیفہ پیدا کروں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ پھر دوسری جگہ فرماتا ہے خلق آدم فاکر مہ یعنی آدم کو پیدا کیا پھر اس کو عزت بخشی اور جیسا کہ آدم کو تحقیر کی نظر سے دیکھا گیا اور مفسد قرار دیا گیا۔ ﴿۴۵۶) یہی صورت اس جگہ بھی پیش آئی۔ اور چونکہ آدم اور مسیح میں باہم مماثلت ہے اس لئے اس عاجز کا نام آدم بھی رکھا گیا اور مسیح بھی۔ (۱۸) سوال۔ ابن صیاد کو اگر مسیح دجال قرار دیا گیا ہے تو اس سے مسلم کی دمشق والی حدیث کو کیا نقصان پہنچتا ہے کیونکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد گم ہو گیا اور قیامت کے قریب پھر ظاہر ہوگا۔ اما الجواب۔ ابن صیاد کا گم ہونا روایت صحیح سے ہر گز ثابت نہیں ۔ لیکن اس کا ایمان لانا اور مرنا ثابت ہے ۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور مدینہ میں فوت ہونا اس کا بپایہ ثبوت پہنچ چکا ہے۔ علاوہ اس کے فرض محال کے طور پر اگر وہ مفقود الخبر بھی ہو تو کیا اس سے اُس کا اب تک زندہ رہنا ثابت ہو جائے گا ؟ کیا اب آپ کو وہ صحیح حدیثیں بھی بھول گئیں کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانہ سے سو برس تک کوئی انسان زمین پر زندہ نہیں رہے گا۔ یہ بات یادر ہے کہ شیعہ لوگ امام محمد مہدی کی نسبت بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایک غار میں چھپ گئے اور مفقود ہیں اور قریب قیامت ظاہر ہوں گے اور سنت جماعت کے لوگ اُن کے اس خیال کو باطل تصور کرتے ہیں اور یہ (۲۵۷) الحج : ٢٨ ۴۸: