ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 309

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۰۹ ازالہ اوہام حصہ اول حال ہے تو لائق اعتبار نہ رہیں اور اس لائق نہ رہیں کہ نبی کی صدق نبوت پر بطور دلیل اور شاہد ناطق کے تصور کی جائیں یا کسی مخالف منکر کے سامنے پیش کی جائیں تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ یہ بات کہ پیشگوئیاں کبھی اپنے ظاہر پر ہی پوری ہو جاتی ہیں اور کبھی باطنی طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے۔ اس سے ربانی پیشگوئیوں کی عظمت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا بلکہ باریک بینوں کی نظر میں اور بھی عظمت کھلتی ہے۔ کیا اگر ایک فلاسفر کا قول کوئی موٹی عقل کا آدمی اُلٹے طور پر سمجھ لیوے اور پھر اس کے معقول معنے جو نہایت مدلل اور ثابت شدہ ہیں کھل جائیں تو اس غلطی سے ان صحیح معنوں کو کچھ حرج پہنچ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔ ماسوا اس کے پیشگوئیوں میں ایک قدر مشترک بہر حال ایسا باقی رہتا ہے کہ خواہ وہ حقیقت پر محمول سمجھی جائیں اور یا بالآخر کوئی مجازی معنے نکل آویں وہ قدر مشترک بدیہی طور پر ظاہر کر دیتا ہے کہ یہ پیشگوئی در حقیقت سچی اور انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے۔ علاوہ اس کے جن پیشگوئیوں کو مخالف کے سامنے دعوی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ ایک خاص طور کی روشنی اور بداہت اپنے اندر رکھتی ہیں اور ملہم لوگ حضرت احدیت میں خاص طور پر توجہ کر کے اُن کا زیادہ تر انکشاف کرا لیتے ہیں مگر معمولی طور پر بہت کچھ چھپے ہوئے گوشے پیشگوئیوں کے ہوتے ہیں۔ اور یہ سراسر نادانی کی ضد ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ خواہ نخواہ پیشگوئی حقیقت پر محمول ہوا کرتی ہے۔ جس نے یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں کو دیکھا ہوگا وہ اس بات کو خوب جانتا ہوگا کہ کس قدر پیشگوئیوں میں استعارات اُن کتابوں نے استعمال کئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض مواضع میں دن ذکر کر کے اُس سے برس مراد لیا ہے۔ در حقیقت پیشگوئیاں از قبیل مکاشفات ہوتی ہیں اور اس چشمہ سے نکلتی ہیں جو استعارات کے رنگ سے بھرا ہوا ہے اپنی خوابوں کو دیکھو کیا کوئی سیدھے طور پر بھی خواب آتی ہے مگر شاذ و نادر۔ (۴۰۴ ایسا ہی خدائے تعالیٰ مکاشفات کو استعارات کی خلعت سے آراستہ کر کے اپنے نبیوں کی معرفت