ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 310
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۰ ازالہ اوہام حصہ اول ظاہر کرتا ہے سو اس صداقت کے قبول کرنے کا نام الحاد رکھنا خود الحاد ہے کیونکہ الحاد اسی کو کہتے ہیں کہ ایک معنے اپنے اصل سے پھیرے جائیں۔ سو جبکہ خدائے تعالی کے قانون قدرت نے مکاشفات اور رویائے صالحہ کے لئے یہی اصل مقرر کر دیا ہے کہ وہ اکثر استعارات سے پر ہوتے ہیں تو اس اصل سے معنے کو پھیرنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ ہمیشہ پیشگوئیاں ظاہر پر ہی محمول ہوتی ہیں اگر الحاد نہیں تو اور کیا ہے؟ صوم اور صلوٰۃ کی طرح پیشگوئی کو بھی ایک حقیقت منکشفہ سمجھنا بڑی غلطی اور بڑا بھارا دھوکہ ہے ۔ یہ احکام تو وہ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھلا دئے اور بکلی اُن کا پردہ اُٹھا دیا مگر کیا ان پیشگوئیوں کے حق میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ یہ من کل الوجوہ مکشوف ہیں اور ان میں کوئی ایسی حقیقت (۲۰۶) اور کیفیت مخفی نہیں جو ظہور کے وقت سمجھ آ سکے اگر کوئی ایسی حدیث صحیح موجود ہے تو کیوں پیش نہیں کی جاتی ۔ آپ لوگ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ علم و فراست نہیں رکھتے۔ صحیح بخاری کی حدیث کو دیکھو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ابریشم کے ٹکڑہ پر حضرت عائشہ صدیقہ کی تصویر دکھائی گئی کہ یہ تیرے نکاح میں آئے گی تو آپ نے ہرگز یہ دعوی نہ کیا کہ عائشہ سے در حقیقت عائشہ ہی مراد ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ اگر در حقیقت اس عائشہ کی صورت سے عائشہ ہی مراد ہے تو وہ مل ہی رہے گی ورنہ ممکن ہے کہ عائشہ سے مراد کوئی اور عورت ہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ابو جہل کے لئے مجھے بہشتی خوشه انگور دیا گیا مگر اس پیشگوئی کا مصداق عکرمہ نکلا ۔ اور جب تک خدائے تعالیٰ نے خاص طور پر تمام مراتب کسی پیشگوئی کے آپ پر نہ کھولے تب تک آپ نے اُس کی کسی شق خاص کا کبھی دعوی نہ کیا۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو جہل سے شرط لگائی اور قرآن شریف کی وہ پیشگوئی مدار شرط رکھی کہ اللہ - غُلِبَتِ الرُّوْمُ - فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ ہے۔ اور تین برس کا عرصہ ٹھہرایا الروم :۲تا۵