ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 308
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۰۸ ازالہ اوہام حصہ اول اس وقت مجھے اپنے ایک دوست کی بات یاد آئی ہے ۔ خدا اس کو غریق رحمت کرے نام اس مرحوم کا حافظ ہدایت علی تھا اور یہ کسی زمانہ میں ضلع گورداسپور کے اکسٹرا اسٹنٹ تھے اور مدت تک بٹالہ میں تحصیلدار بھی رہے ایک جلسہ میں انہوں نے فرمایا کہ جس قدر بعض امور ۲۰۲ کے ظہور کا آخری زمانہ کے بارے میں وعدہ دیا گیا ہے اور بعض پیشگوئیاں فرمائی گئی ہیں ہمیں اُن کی نسبت یہ اعتقاد نہیں رکھنا چاہیے کہ وہ ضرور اپنی ظاہری صورت میں ہی ظہور پذیر ہوں گی تا اگر آئندہ اُن کی حقیقت کسی اور طور پر کھلے تو ہم ٹھو کر نہ کھاویں۔ اور ہمارا ایمان سلامت رہ جائے۔ اور کہا کہ چونکہ غالباً ہم اُسی زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں جس کو آج سے کچھ کم تیرہ سو برس پہلے آخری زمانہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ اس لئے کچھ تعجب نہیں کہ ان میں سے بعض پیشگوئیاں ہماری ہی زندگی میں ظاہر ہو جائیں۔ سو ہمیں اجمالی ایمان کا اصول محکم پکڑنا چاہیے اور کسی شق پر ایسا زور نہیں دینا چاہیے جیسا کہ اس حالت میں دیا جاتا ہے کہ جب ایک حقیقت کی تہ تک ہم پہنچ جاتے ہیں۔ تم کلامه اور واقعی یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ اُمت کے اجماع کو پیشگوئیوں کے امور سے کچھ تعلق نہیں اور ہمارے حال کے مولویوں کو یہ سخت دھوکا لگا ہوا ہے کہ پیشگوئیوں کو بھی جن کی اصل حقیقت ہنوز در پردہ غیب ہے اجماع کے شکنجہ میں کھینچنا چاہتے ہیں۔ (۲۰۳) دراصل پیشگوئیاں حاملہ عورتوں سے مشابہت رکھتی ہیں اور مثلاً ہم ایک حاملہ عورت کی نسبت یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کے پیٹ میں کوئی بچہ ضرور ہے اور یقینا وہ نو مہینے اور دس دن کے اندراندر پیدا بھی ہو جائے گا مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا شکل رکھتا ہے اور اس کی حالت جسمی کیسی ہے اور اس کے نقوش چہرہ کس طرز کے واقع ہیں اور لڑکا ہے یا بلا شبہ لڑکی ہے۔ شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ اعتراض خلجان کرے کہ اگر پیشگوئیوں کا ایسا ہی