ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 271
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۱ ازالہ اوہام حصہ اول اطلاق پاتا ہے جیسے کہتے ہیں کہ یہ لوہا مر گیا اور کشتہ ہو گیا اور چاندی کا ٹکڑہ مرگیا اور کشتہ ہو گیا۔ ایسا ہی تمام جاندار اور کیڑے مکوڑے جن کی روح مرنے کے بعد باقی نہیں رہتی اور مور د ثواب و عقاب نہیں ہوتے اُن کے مرنے پر بھی توفی کا لفظ نہیں بولتے بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ فلاں جانور مر گیا یا فلاں کیڑ ا مر گیا۔ چونکہ خدا تعالیٰ کو اپنے کلام عزیز میں یہ منظور ہے کہ کھلے کھلے طور پر یہ ظاہر کرے کہ انسان ایک ایسا جاندار ہے کہ جس کی موت کے (۳۳۶ بعد بکلی اس کی فنا نہیں ہوتی بلکہ اس کی روح باقی رہ جاتی ہے جس کو قابض ارواح اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے اسی وجہ سے موت کے لفظ کو ترک کر کے بجائے اس کے توفی کا لفظ استعمال کیا ہے تا اس بات پر دلالت کرے کہ ہم نے اس پر موت وارد کر کے بکلی اس کو فنا نہیں کیا بلکہ صرف جسم پر موت وارد کی ہے اور روح کو اپنے قبضہ میں کر لیا ہے اور اس لفظ کے اختیار کرنے میں دہریوں کا رڈ بھی منظور ہے جو بعد موت جسم کے روح کی بقا کے قائل نہیں ہیں۔ جاننا چاہیئے کہ قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک توفی کے معنے روح کو قبض کرنے اور جسم کو بیکار چھوڑ دینے کے لئے گئے ہیں اور انسان کی موت کی حقیقت بھی صرف اسی قدر ہے کہ روح کو خدائے تعالیٰ قبض کر لیتا ہے اور جسم کو اس سے الگ کر کے چھوڑ دیتا ہے اور چونکہ نیند کی حالت بھی کسی قدر اس حقیقت میں اشتراک رکھتی ہے اسی وجہ سے مذکورہ بالا دو آیتوں میں نیند کو بھی بطور استعارہ توفی کی حالت سے تعبیر کیا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ نیند میں بھی ۳۳۷ ایک خاص حد تک روح قبض کی جاتی ہے اور جسم کوبے کار اور معطل کیا جاتا ہے لیکن توقفی کی کامل حالت جس میں کامل طور پر روح قبض کی جائے اور کامل طور پر جسم بے کار کر دیا جائے وہ انسان کی موت ہے اسی وجہ سے توفی کا لفظ عام طور پر قرآن شریف میں انسان کی موت کے بارے میں ہی استعمال کیا گیا ہے اور اوّل سے آخر تک قرآن شریف اسی استعمال سے بھرا پڑا ہے