ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 270

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۰ ازالہ اوہام حصہ اول بغیر احتیاج قرائن کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے اپنے ۳۳۴ اس مدعا کو ظاہر کر جائے کہ یہ لفظ اپنے اصل معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔ اب چونکہ یہ فرق حقیقت اور مجاز کا صاف طور پر بیان ہو چکا تو جس شخص نے قرآن کریم پر اول سے آخر تک نظر ڈالی ہوگی اور جہاں جہاں توفی کا لفظ موجود ہے بنظر غور دیکھا ہوگا وہ ایمان ہمارے بیان کی تائید میں شہادت دے سکتا ہے۔ چنانچہ بطور نمونہ دیکھنا چاہیے کہ یہ آیات (۱) إمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (٢) تَوَفَّنِي مُسْلِمًا :(۳) وَمِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفَّى (٤) تَوَفُهُمُ الْمَلَيكَةُ : (٥) يَتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ (1) تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا () () رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ - (۸) تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ٥ (9) وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ (۱۰) ثُمَّ يَتَوَقْكُمْ کیسی صریح اور صاف طور پر موت کے معنوں میں استعمال کی گئی ہیں مگر کیا قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت بھی ہے کہ ان آیات کی طرح مجرد توفی کا لفظ لکھنے سے اس سے کوئی اور معنے مراد لئے گئے ہوں۔ موت مراد نہ لی گئی ہو۔ بلاشبہ قطعی اور یقینی طور پر اول سے آخر تک قرآنی محاورہ یہی ثابت ہے کہ ہر جگہ در حقیقت توفی کے لفظ سے موت ہی مراد ہے تو پھر (۳۳۵) متنازعہ فیہ دو آیتوں کی نسبت جو إِنِّي مُتَوَفِّیک اور فَلَمَّا تَوَ فَيْتَنِی ہیں اپنے دل سے کوئی معنے مخالف عام محاورہ قرآن کے گھڑنا اگر الحاد اور تحریف نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس جگہ یہ نکتہ بیان کرنے کے لائق ہے کہ قرآن شریف میں ہر جگہ موت کے محل پر توفی کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے امانت کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیا ؟ اس میں بھید یہ ہے کہ موت کا لفظ ایسی چیزوں کے فنا کی نسبت بھی بولا جاتا ہے جن پر فنا طاری ہونے کے بعد کوئی روح اُن کی باقی نہیں رہتی ۔ اسی وجہ سے جب نباتات اور جمادات اپنی صورت نوعیہ کو چھوڑ کر کوئی اور صور قبول کر لیں تو اُن پر بھی موت کا لفظ يونس : ۴۷ يوسف : ١٠٢ الحج : النساء : ٩٨ البقرة : ۲۴۱ الانعام ٦٢ ك الاعراف : ۳۸ الاعراف : ۱۲۷ 2 ال عمران : ۱۹۴ النحل :