ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 272

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۲ ازالہ اوہام حصہ اول اور نیند کے محل پر تو فی کا لفظ صرف دو جگہ قرآن شریف میں آیا ہے اور وہ بھی قرینہ قائم کرنے کے ساتھ ۔ اور اُن آیتوں میں صاف طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ اس جگہ بھی توفی کے لفظ سے نیند مراد نہیں ہے بلکہ موت ہی مراد ہے اور اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ نیند بھی ایک موت ہی کی قسم ہے جس میں روح قبض کی جاتی ہے اور جسم معطل کیا جاتا ہے صرف اتنا فرق ہے کہ نیند ایک ناقص موت ہے اور موت حقیقی ایک کامل موت ہے۔ یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے کہ توفی کا لفظ جو قرآن شریف میں استعمال کیا گیا ہے خواہ ۳۳۸ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل ہے یعنی موت پر یا غیر حقیقی معنوں پر یعنی نیند پر ۔ ہر ایک جگہ اس پر لفظ سے مراد یہی ہے کہ روح قبض کی جائے اور جسم معطل اور بے کار کر دیا جائے ۔ اب جبکہ یہ معنے مذکورہ بالا ایک مسلم قاعدہ ٹھہر چکا جس پر قرآن شریف کی تمام آیتیں جن میں توفی کا لفظ موجود ہے شہادت دے رہی ہیں تو اس صورت میں اگر فرض محال کے طور پر ایک لمحہ کے لئے یہ خیال باطل بھی قبول کرلیں کہ انِي مُتَوَفِّيكَ کے معنے اِنِّی مُنِیمُک ہے یعنی یہ کہ میں تجھے سلانے والا ہوں تو اس سے بھی جسم کا اُٹھایا جانا غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس جگہ انی متوفی کے معنے از روئے قاعدہ متذکرہ بالا یہی کریں گے کہ میں تجھ پر نیند کی حالت غالب کر کے تیری روح کو قبض کرنے والا ہوں۔ اب ظاہر ہے کہ انی متوفیک کے بعد جو رافعک التی فرمایا ہے یعنی میں تیری روح کو قبض کر کے پھر اپنی طرف اُٹھاؤں گا یہ رافعک کا لفظ انی متوفیک کے لفظ سے تعلق رکھتا ہے جس سے بداہت یہ معنے نکلتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے روح کو قبض کیا اور روح کو ہی اپنی طرف اٹھایا کیوں کہ جو چیز قبض کی گئی ۳۳۹ وہی اُٹھائی جائے گی جسم کے قبض کرنے کا تو کہیں ذکر نہیں ۔ چنانچہ دوسری آیات میں جو نیند کے متعلق ہیں خدائے تعالیٰ صاف صاف فرما چکا ہے کہ نیند میں بھی موت کی طرح روح ہی قبض کی جاتی ہے جسم نہیں قبض کیا جاتا۔ اب ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو قبض کیا جاتا ہے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' مُتَوَفِّیک “ہونا چاہیے۔(ناشر)