ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 248

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۸ ازالہ اوہام حصہ اول لیکن پھر بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایک رویا صالحہ تھی اور کسی نے حضرت عائشہ صدیقہ کا نام نعوذ باللہ محدہ یا ضالہ نہیں رکھا اور نہ اجماع کے برخلاف بات کرنے سے انہیں ٹوٹ کر پڑ گئے ۔ اب اے منصفو! اے حق کے طالبو! اے خدائے تعالیٰ سے ڈرنے والے بندو! اس مقام میں ذرہ ٹھہر جاؤ!!! اور آہستگی اور تدبر سے خوب غور کرو کہ کیا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر جسم کے ساتھ چڑھ جانا اور پھر جسم کے ساتھ اُترنا ایسا عقیدہ نہیں ہے جس پر صدر اوّل کا اجماع تھا اور بعض صحابی جو اس اجماع ۲۹۰ کے مخالف قائل ہوئے کسی نے اُن کی تکفیر نہیں کی ۔ نہ اُن کا نام ملحد اور ضال اور ماوّل مخطی رکھا۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی معراج کا مسئلہ بالکل مسیح کے جسمانی طور پر آسمان پر چڑھنے اور آسمان سے اترنے کا ہم شکل ہے اور ایک ہم شکل مقدمہ کے بارہ میں بعض صحابہ جلیلہ کا ہماری رائے کے مطابق رائے ظاہر کرنا در حقیقت ایک دوسرے پیرایہ میں ہماری رائے کی تائید ہے یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی معراج کی نسبت انکار کرنا در حقیقت اور در پردہ صحیح کے جسمانی رفع و معراج سے بھی انکار ہے۔ سو ہر ایک ایسے مومن کے لئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور عزت مسیح کی عظمت اور عزت سے برتر و بہتر سمجھتا ہے طریق ادب یہی ہے کہ یہ اعتقادر کھے کہ جو مرتبہ قرب اور کمال کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جائز نہیں وہ مسیح کے لئے بھی بوجہ اولی جائز نہیں ہوگا کیونکہ جس حالت میں مسلمانوں کا عام طور پر یہ مذہب ہے کہ مسیح ابن مریم آخری زمانہ میں ایک امتی بنکر آئے گا ۔ اور مقتدی ہوگا نہ ۲۹۱ مقتدا یعنی نماز میں ۔ پس اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ اس شخص کا درجہ کہ جو آخر امتی بن کر آئے گا اُس دوسرے شخص کے درجہ سے نہایت ہی کمتر اور فروتر ہونا چاہیے جس کو اُمتی کا نبی اور رسول اور پیشوا ٹھہرایا گیا ہے یعنی ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور بڑے تعجب کا مقام ہوگا کہ ایک اُمتی کی وہ تعریفیں کی جائیں