ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 249
روحانی خزائن جلد۳ ۲۴۹ ازالہ اوہام حصہ اول جو اس کے رسول کی نہیں کی گئیں۔ اور وہ عظمت اس امتی کو دی جائے جو اس کے رسول کو نہیں دی گئی۔ اور اگر یہ کہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اُمتی کر کے کہاں پکارا گیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ صحیح بخاری کی وہ حدیث دیکھو جس میں اِمَامُكُمْ مِنكُمُ موجود ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ منکم کے خطاب کے مخاطب اُمتی لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دنیا کے اخیر تک ہوتے رہیں گے۔ اب ظاہر ہے کہ جب مخاطب صرف اُمتی لوگ ہیں اور یہ امتیوں کو خوشخبری دی گئی کہ ابن مریم جو آنے والا ہے وہ تم میں سے ہی ہوگا اور تم میں سے ہی پیدا ہوگا تو دوسرے لفظوں میں اس فقرے کے یہی معنے ہوئے کہ وہ ابن مریم جو آنے والا ہے کوئی نبی نہیں ہوگا بلکہ فقط اُمتی لوگوں میں سے ایک شخص ہوگا۔ اب سوچنا چاہیے کہ اس سے بڑھ کر اس بات کے لئے اور کیا قرینہ ہوگا کہ ابن مریم سے اس جگہ وہ نبی مراد نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی کیونکہ نبوت ایک عطاء غیر مجذوذ ہے اور نبی کا اس عطا سے محروم و بے نصیب کیا جانا ہرگز جائز نہیں اور اگر فرض کر لیں کہ وہ نبی ہونے کی حالت میں ہی آئیں گے اور بحیثیت نبوت نزول فرمائیں گے تو ختم نبوت اس کا مانع ہے۔ سو یہ قرینہ ایک بڑا بھاری قرینہ ہے بشرطیکہ کسی کے دل و دماغ میں خدا داد تقوی و فہم موجود ہو۔ ۲۹۲ میرے دوست مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب اپنے ایک خط میں مجھے لکھتے ہیں کہ اگر آپ کا مثیل موعود ہونا مان لیا جائے تو پھر بخاری و مسلم و دیگر صحاح نامی و بے کار ہو جائیں گی اور ایک سخت تفرقہ امہات مسائل دین میں پڑے گا۔ سواوّل میں ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ میرے دوست وہی مولوی صاحب ہیں کہ جو اپنے اشاعۃ السنتہ نمبرے جلد سات میں امکانی طور پر اس عاجز کا مثیل مسیح اور پھر موعود بھی ہونا تسلیم کر چکے ہیں کیونکہ براہین احمدیہ میں جس کا (۲۹۳) مولوی صاحب نے ریویو لکھا ہے ان دونوں دعووں کا ذکر ہے یعنی اس عاجز نے براہین میں صاف اور صریح طور پر لکھا ہے کہ یہ عاجز مثیل مسیح ہے اور نیز موعود بھی ہے۔ جس کے آنے کا وعدہ قرآن شریف اور حدیث میں روحانی طور پر دیا گیا ہے۔