ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 247
روحانی خزائن جلد۳ ۲۴۷ ازالہ اوہام حصہ اول اپنی طرف اُٹھا لیا ہے جیسا کہ آیت از جعى إلى رَبَّكِ لا اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ خدائے تعالیٰ تو ہر جگہ موجود اور حاضر ناظر ہے اور جسم اور جسمانی نہیں اور کوئی جہت نہیں رکھتا پھر کیوں کر کہا جائے کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھایا گیا ضرور اس کا جسم آسمان میں پہنچ گیا ہو گا۔ یہ بات کس قدر صداقت سے بعید ہے راستباز لوگ روح اور روحانیت کی رو سے خدائے تعالی کی طرف اُٹھائے جاتے ہیں نہ یہ کہ اُن کا گوشت اور پوست اور اُن کی ہڈیاں (۲۸۸) خدائے تعالیٰ تک پہنچ جاتی ہیں۔ خدائے تعالیٰ خود ایک آیت میں فرماتا ہے لَنْ يَنَالَ الله لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلكِنْ تَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ کے یعنی خدائے تعالیٰ تک گوشت اور خون قربانیوں کا ہر گز نہیں پہنچتا بلکہ اعمال صالحہ کی رُوح جو تقویٰ اور طہارت ہے وہ تمہاری طرف سے پہنچتی ہے۔ اس تمام تقریر سے ایک سچائی کے طالب کے لئے ایک پوری پوری اطمینان اور تسلی ملتی ہے کہ جہاں جہاں قرآن شریف اور حدیث میں کسی مجسم چیز کا آسمان سے اتارا جانا لکھا ہے خواہ حضرت مسیح ہیں یا اور چیزیں ، وہ سب الفاظ ظاہر پر ہرگز محمول نہیں ہیں چنانچہ ہمارے علماء بھی ایک مسیح کو باہر نکال کر باقی تمام مقامات میں ظاہر معانی کو باطن کی طرف پھیر لیتے ہیں فقط مسیح کی نسبت کچھ ایسی ضد اور چڑ ان کی طبیعتوں میں بیٹھ گئی ہے کہ بجز اس کے راضی نہیں ہوتے کہ اُن کے جسم کو آسمان پر پہنچا ویں اور پھر کسی نامعلوم زمانہ میں اُسی جسم کا آسمان سے اتر نا یقین کریں۔ ہمارے علماء خدائے تعالیٰ ان کے حال پر رحم کرے ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے ۴۳۹ مرتبہ وشان کو نہیں دیکھتے کہ سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کا انہیں پر فضل تھا مگر باوجودیکہ آنحضرت کے رفع جسمی کے بارہ میں یعنی اس بارہ میں کہ وہ جسم کے سمیت شب معراج میں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے تھے تقریبا تمام صحابہ کا یہی اعتقاد تھا جیسا کہ مسیح کے اُٹھائے جانے کی نسبت اس زمانہ کے لوگ اعتقا در کھتے ہیں یعنی جسم کے ساتھ اُٹھائے جانا اور پھر جسم کے ساتھ اترنا ۲۹ الفجر: ٢٩ ٢ الحج: ۳۸