ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 246

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۴۶ ازالہ اوہام حصہ اول (۲۸۶) ہم نے اُتارے ہیں اور مراد اس سے کوئی اور رکھی گئی ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ اسی طرح پر واقع ہے کہ انتر نا کسی چیز کا بیان فرماتا ہے اور اصل مقصود اس اترنے سے کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ انصاف کرنا چاہیے کہ کیا حضرت مسیح کا آسمان سے اترنا ان آیات کی نسبت زیادہ صفائی سے بیان کیا گیا ہے؟ بلکہ مسیح کا اُتر نا صرف بعض حدیثوں کی رو سے خیال کیا جاتا ہے اور حدیثیں بھی ایسی ہیں جن میں آسمان کا ذکر ہی نہیں صرف اُترنا لکھا ہے لیکن گدھوں اور بیلوں کا آسمان سے اتر نا قرآن کریم آپ فرما رہا ہے ۔ پس سوچ کر دیکھو کہ کس طرف کو ترجیح ہے اگر حضرت مسیح کا آسمان سے اتر نا صرف اس لحاظ سے ضروری سمجھا جاتا ہے تو اس سے زیادہ صاف گدھوں اور بیلوں کا اُترنا ہے۔ اگر ظاہر پر ہی ایمان لانا ہے تو پہلے گدھوں اور بیلوں پر ایمان لاؤ کہ وہ حقیقت میں آسمان سے اترتے ہیں یا اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے یوں کرو کہ انزَلْنَا کے لفظ کو مضارع استقبال کے معنوں پر حمل کر کے آیت کی اس طرح پر تغییر کر لو کہ آخری زمانہ میں جب حضرت مسیح آسمان سے اتریں گے تو ساتھ ہی بہت سے گدھے خاص کر سواری کا گدھا ایسا ہی بہت سے بیل اور گھوڑے اور خچریں اور لوہا بھی ۲۸۷ آسمان سے اترے گا تا آیات اور حدیث کی معانی میں پوری تطبیق ہو جائے ورنہ ہر یک شخص اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے کہ قرآن شریف میں کیوں معنے آیات کے ظاہر سے باطن کی طرف پھیرے جاتے ہیں اور حدیثوں میں جو حضرت عیسی کے اُترنے کے بارے میں وہی الفاظ ہیں کیوں اُن کے ظاہری معنے اپنی حد سے بڑھ کر قبول کئے جاتے ہیں حالانکہ قرائن قویہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر ہر گز نہیں گیا اور نہ آسمان کا لفظ اس آیت میں موجود ہے بلکہ لفظ تو صرف یہ ہے يعنى اِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى پھر دوسری جگہ ہے بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ لے جس کے یہ معنے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ یہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مرجاتے ہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ کو خدائے تعالیٰ نے ال عمران: ۵۶ ۲ النساء: ۱۵۹