ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 218

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۸ ازالہ اوہام حصہ اول یا آپ کے دینی جوش کا کیا حرج ہے؟ کس نے آپ پر زور ڈالا ہے یا کب اور کس وقت آپ کو رسول کریم کی طرف سے ایسی تاکید کی گئی ہے کہ ضرور ایسے الفاظ کو حقیقت پر ہی حمل کرو؟ آپ صاحبوں کا یہ عذر کہ اس پر اجماع سلف صالح ہے یہ ایک عجیب عذر ہے جس کے پیش کرنے کے وقت آپ صاحبوں نے نہیں سوچا کہ اگر فرض کے طور پر اجماع بھی ہو جو کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتا پھر بھی ظاہری الفاظ پر اجماع ہوگا نہ یہ کہ فر فرد نے حلف اُٹھا کر اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اس حدیث کے الفاظ سے جو ظاہری معنے نکلتے ہیں در حقیقت وہی مراد ہیں ۔ اُن بزرگوں نے تو ان احادیث کو امانت کے طور پر پہنچا دیا اور ان کی اصل حقیقت کو حوالہ بخدا کرتے رہے۔ اجماع کی تہمت اُن بزرگوں پر کس قدر بے اصل تہمت ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں دے سکتا۔ میں کہتا ہوں کہ اجماع تو ایک طرف اس قسم کی حدیثیں بھی عام طور پر صحابہ میں نہیں پھیلیں تھیں ۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر صحابہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہوتا کہ دجال معہود آخری زمانہ میں نکلے گا اور حضرت مسیح اس کو قتل کریں گے تو پھر حضرت جابر بن عبد اللہ ۲۳۵ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو کیوں قسم کھا کر کہتے کہ دجال معہود جو آنے والا تھا وہ یہی ابن صیاد ہے جو آخر مشرف باسلام ہو کر مدینہ منورہ میں فوت ہو گیا ؟ بھائیو! یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں لکھی ہے اور ابوداؤ داور بیہقی میں بھی نافع کی روایت سے یہ حدیث موجود ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ قسم کھا کر کہا کرتے تھے کہ مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مسیح دجال یہی ابن صیاد ہے ۔ بھلا اس مؤخر الذکر حدیث کو جانے دو کیونکہ یہ ایک صحابی ہیں ممکن ہے کہ انہوں نے غلطی کی ہو لیکن اُس حدیث کی نسبت کیا عذر پیش کرو گے جس کو ابھی میں ذکر کر چکا ہوں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خود جناب رسالت مآب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے