ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 217
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۷ ازالہ اوہام حصہ اول میں ایک دوسری مسلم کی حدیث لکھ کر ابھی ثابت کر آیا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اقرار اس بات کا فرماتے ہیں کہ یہ سب بیانات میرے مکاشفات میں سے ہیں اور اس دمشقی حدیث میں بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کانسی کا لفظ موجود ہے وہ بھی بآواز بلند پکار رہا ہے کہ یہ سب باتیں عالم رؤیا اور کشف میں سے ہیں جن کی مناسب طور پر تاویل ہونی چاہیے چنانچہ ملا علی قاری نے بھی یہی لکھا ہے اور خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت جو موافق آیت کریمہ خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا انسان کی کمزوری پر شاہد ناطق ہے کسی آدم زاد کے لئے ایسی قوت و طاقت تسلیم نہیں کرتا کہ وہ ہوا کی طرح ایک دم میں مشارق و مغارب کا سیر کر سکے اور آسمان کے سب اجرام اور زمین کے سب ذرات اُس کے تابع ہوں ۔ تعجب کہ جب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مضمون اس حدیث کا از قبیل کشوف ورڈ یا صالحہ سے یعنی قابل تعبیر ہے تو پھر کیوں خواہ نخواہ اس کے ظاہر معنوں پر زور ڈالا جاتا ہے اور کیوں خوابوں کی طرح اس کی تعبیر نہیں کی جاتی ؟ یا کشوف متشابہ کی طرح اس کی حقیقت حوالہ بخدا نہیں کی جاتی؟ زکریا کی کتاب کو دیکھو جو ملا کی سے پہلے ہے کہ کس قدر اس میں اسی قسم کے مکاشفات لکھے ہیں مگر کوئی دانشمند اُن کو ظاہر پر حمل نہیں کرتا ۔ ایسا ہی حضرت یعقوب کا خدائے تعالیٰ سے کشتی کرنا جو توریت میں لکھا ہے کوئی منظمند اس کشف کو حقیقی معنی پر حمل نہیں کر سکتا ۔ ۲۳۳ سواے بھائیو! میں محض نصیحتا اللہ پوری ہمدردی کے جوش سے جو مجھے آپ ۔ اور اپنے پیارے دین اسلام سے ہے آپ لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ آپ لوگ غلطی کر رہے ہیں اور سخت غلطی کر رہے ہیں کہ محض تحکم کی وجہ سے مکاشفات نبویہ کو صرف ظاہری الفاظ پر محدود خیال کر بیٹھے ہیں یقینا سمجھو کہ ان باتوں کو حقیقت پر حمل کرنا گویا اپنی ایمانی عمارت کی اینٹیں اُکھیڑنا ہے۔ میں متعجب ہوں کہ اگر آپ استعارات کو قبول نہیں کر سکتے تو کیوں ان امور برتر از فہم کی تفسیر کو حوالہ بخدا نہیں کرتے اس میں آپ کا (۲۳۴) النساء : ٢٩