ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 219
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۹ ازالہ اوہام حصہ اول حضور میں قسم کھا کر کہا تھا کہ دجال معہود یہی ابن صیاد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چپ رہنے اور انکار نہ کرنے کی وجہ سے اس قسم پر مہر لگا دی اور حضرت عمر کے خیال سے اپنا اتفاق رائے کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے یہاں تک کہ بعض (۲۳۶) اوقات ان کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور اُن کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے۔ دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی امتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں اگر اس امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے۔ اب سوچو اور خیال کرو کہ نواس بن سمعان کو پا یہ عالیہ عمر سے کیا مناسبت ہے؟ جو فہم قرآن اور حدیث کا حضرت عمر کو دیا گیا تھا اُس سے نو اس کو کیا نسبت ہے؟ ماسوا اس کے یہ حدیث متفق علیہ ہے جو بخاری اور مسلم دونوں نے لکھی ہے اور نو اس کی دمشقی حدیث جس میں دجال کی تعریفیں خلاف عقل و خلاف تو حید درج ہیں صرف مسلم میں لکھی گئی ہے ماسوائے اس کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قسم کھانا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ انکار نہ کرنا اس بات کا فیصلہ دیتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اور نیز صحابہ کرام کی نگاہ میں دجال معہود ابن صیاد ہی تھا اور حدیث شرح السنہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ اور مدت العمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر اسی بات سے ہراساں تھے کہ ابن صیاد دجال معہود ہے اب جبکہ ابن صیاد کا دجال معہود ہونا ایسے قطعی (۲۳۷ اور یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ اس میں کسی طور کے شک و شبہ کو راہ نہیں تو اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ دجال خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہو کر اور مشرف با سلام ہو کر اور آخر مدینہ میں فوت بھی ہو گیا تو حضرت مسیح کے ہاتھ سے جن کے آنے کی علت غائی دجال کا مارنا ظاہر کیا جاتا ہے کون قتل کیا جائے گا کیونکہ دجال تو موجود ہی نہیں جن کو