ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 167

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۷ ازالہ اوہام حصہ اوّل زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا اور وہ ایسا زلزلہ ہوگا کہ تمام زمین اُس سے زیروز بر ہو جائے گی اور جو زمین کے اندر چیزیں ہیں وہ سب باہر آجائیں گی اور انسان (۱۲۹) یعنی کا فرلوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہوا تب اُس روز زمین با تیں کرے گی اور اپنا حال بتائے گی۔ یہ سراسر غلط تفسیر ہے کہ جو قرآن شریف کے سیاق و سباق سے (۱۳۰) مخالف ہے۔ اگر قرآن شریف کے اس مقام پر بنظر غور تدبر کرو تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں سورتیں یعنی سورۃ البینہ اور سورۃ الزلزال ، سورۃ لیلتہ القدر کے متعلق ہیں اور آخری (۱۳۱) زمانہ تک اس کا کل حال بتلارہی ہیں ماسوا اس کے ہر ایک عقل سلیم سوچ سکتی ہے کہ ایسے (۱۳۲ ) بڑے زلزلہ کے وقت میں کہ جب ساری زمین تہ و بالا ہو جائے گی ایسے کافر کہاں گورنمنٹ برطانیہ کے وہ بچے شکر گزار اور خیر خواہ تھے ۱۸۵۷ء کے غدر کے ایام میں پچاس گھوڑے انہوں نے اپنے پاسے خرید کر اور اچھے اچھے جوان ہی کر کے پچاس سوار بطور مد کے سرکار کو دئے اس وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں بہت ہر دل عزیز تھے اور گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام دلجوئی کے ساتھ اُن کو ملتے تھے بلکہ بسا اوقات صاحبان ڈپٹی کمشنر و کمشنر مکان پر آ کر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ خاندان ایک معزز خاندان زمینداری ہے جو شاہان سلف کے زمانہ سے آج تک آثار عزت کسی قدر موجود رکھتا ہے فالحمد لله الذي اثبت هذه العلامة اثباتًا بَيِّنًا واضحًا من عنده اور چوتھی اور پانچویں علامت کی تصریح کچھ ضروری نہیں خود ظاہر ہے اور قادیان کو جو خدائے تعالیٰ نے دمشق کے ساتھ مشابہت دی اور یہ بھی اپنے الہام میں فرمایا کہ اخرج منه اليزيديون به (۱۳۴) تشبیہ بوجہ ان ملحدوں اور شریروں کے ہے جو اس قصبہ میں رہتے ہیں کیونکہ اس قصبہ میں اکثر ایسے لوگ بھرے ہوئے ہیں جن کو موت یاد نہیں۔ دن رات دنیا کے فریبوں اور مکروں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر انتظام گورنمنٹ انگریزی مانع نہ ہو تو ان لوگوں کے دل ہر یک جرم کے کرنے کو طیار ہیں الا ماشاء اللہ ان میں ایسے بھی ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کے وجود سے بکلی منکر ہیں اور کسی چیز کو حرام نہیں سمجھتے