ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 166
روحانی خزائن جلد ۳ 174 ازالہ اوہام حصہ اول اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے اُترنے کے لئے جو زمانہ انجیل میں بیان فرمایا ہے یعنی یہ کہ وہ حضرت نوح کے زمانہ کی طرح امن اور آرام کا زمانہ ہوگا در حقیقت اسی مضمون پر سورۃ الزلزال جس کی تغییر ابھی کی گئی ہے دلالت التزامی کے طور پر شہادت دے رہی ہے کیونکہ علوم وفنون کے پھیلنے اور انسانی عقول کی ترقیات کا زمانہ در حقیقت ایسا ہی چاہیے جس ۱۲۷ میں غایت درجہ کا امن و آرام ہو کیونکہ لڑائیوں اور فسادوں اور خوف جان اور خلاف امن زمانہ میں ہرگز ممکن نہیں کہ لوگ عقلی و عملی امور میں ترقیات کر سکیں۔ یہ باتیں تو کامل طور پر تبھی سوجھتی ہیں کہ جب کامل طور پر امن حاصل ہو۔ ۱۳۸ ۱۳۲ ۱۳۳ ہمارے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سورۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ در حقیقت ہم لوگ ایسے ذلیل و خوار تھے کہ ایک گائے کا بچہ جو دو یا ڈیڑھ روپے کو آسکتا ہے صد با درجہ زیادہ ہماری نسبت بنظر عزت دیکھا جاتا تھا اور اس جانور کو ایک ادنی خراش پہنچانے کی وجہ سے انسان کا خون کرنا مباح سمجھا گیا تھا۔ صد با آدمی ناکردہ گناہ صرف اس شک سے قتل کئے جاتے تھے کہ انہوں نے اس جانور کے ذبح کرنے کا ارادہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی جاہل ریاست کہ جو حیوان کے قتل کے عوض انسان کو قتل کر ڈالنا اپنا فرض سمجھتی تھی اس لائق نہیں تھی کہ خدائے تعالیٰ بہت عرصہ تک اس کو مہلت دیتا اس لئے خدائے تعالیٰ نے اس تنبیہ کی صورت کو مسلمانوں کے سر پر سے بہت جلد اُٹھا لیا اور ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دور سے لایا اور وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اُٹھائی تھی گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے ۔ اور ہم پر اور ہماری ذریت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔ انگریزی سلطنت میں تین گاؤں تعلقداری اور ملکیت قادیان کا حصہ جدی والد صاحب مرحوم کو ملے جو اب تک ہیں اور حراث کے لفظ کے مصداق کے لئے کافی ہیں ۔ والد صاحب مرحوم اس ملک کے ممیز زمینداروں میں شمار کئے گئے تھے گورنری دربار میں اُن کو کرسی ملتی تھی ۔ اور