ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 168

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۶۸ ازالہ اوہام حصہ اول (۱۳۳) زندہ رہیں گے۔ جو زمین سے اُس کے حالات استفسار کریں گے کیا ممکن ہے کہ زمین تو ۱۳۴) ساری زیروز بر ہو جائے یہاں تک کہ اوپر کا طبقہ اندر اور اندر کا طبقہ باہر آ جائے اور پھر لوگ زندہ بیچ رہیں بلکہ اس جگہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاورہ قرآن شریف ۱۳۵ کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قومی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا اور جیسا کہ فرماتا ہے وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ میں اُن کے دلوں کو دیکھتا ہوں کہ زنا سے لے کر خون ناحق تک اگر موقعہ پاویں اُن کے نزدیک نہ صرف جائز بلکہ یہ سب کام تعریف کے لائق ہیں۔ میں اُن کے نزدیک شاید تمام دنیا سے بدتر ہوں مگر مجھے افسوس نہیں میرے روحانی بھائی مسیح کا قول مجھے یاد آتا ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ امام حسین کا وقت پاتے تو میرے خیال میں ہے کہ یزید اور شمر سے پہلے ان کا قدم ہوتا اور اگر مسیح کے زمانہ کو دیکھتے تو اپنی مکاریوں میں یہودا اسکر یوٹی کو پیچھے ڈال دیتے۔ خدائے تعالی نے جو ان کو یزیدیوں سے مناسبت دی تو بے وجہ نہیں دی اُس نے ان کے دلوں کو دیکھا کہ سیدھے نہیں اُن کے چلن پر نظر ڈالی کہ درست نہیں تب اس نے مجھے کہا کہ یہ لوگ یزیدی الطبع ہیں اور یہ قصبہ دمشق سے مشابہ ہے۔ سوخدائے تعالیٰ نے ایک بڑے کام کے لئے اس دمشق میں اس عاجز کو اُتارا بطرف شرقي عند المنارة البيضاء من المسجد الذى من د دخله كان آمنا فتبارك الذي انزلني في هذا المقام والسلام على رسوله افضل الرّسل ۱۳۵ وخير الانام منه الحديد : ١٨