ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 152

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۲ ازالہ اوہام حصہ اول دکھلا دیں اور معقول طور پر ہمیں سمجھا دیں کہ جس حالت میں قرآن شریف کھلے کھلے طور پر حضرت مسیح کے وفات پا جانے کا قائل ہے تو پھر باوجود اُن کے وفات پا جانے اور بہشت میں داخل ہو جانے کے پھر کیوں کر اُن کا وہ جسم جو بموجب نص قرآنی کے زمین ۹۵ میں دفن ہو چکا آسمان سے اُتر آئے گا اور اس جگہ صرف قرآن شریف ہی اُن کے مدعا کے منافی نہیں بلکہ احادیث صحیحہ ہی سخت منافی و مبائن پڑی ہیں مثلاً بخاری کی یہ حدیث کہ جو امامکم منکم ہے اگر تا ویلات کے شکنجہ پر نہ چڑھائی جاوے اور جیسا کہ ظاہر الفاظ حدیث کے ہیں انہیں کے موافق معنے لئے جائیں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اس حدیث کے ظاہر ظاہر یہی معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا اور تم میں سے ہی ہوگا (۹۲) یعنی ایک مسلمان ہوگا نہ یہ کہ سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی ہے پاس کیا رکھا تھا جس کی توقع سے وہ اپنی جانوں اور عزتوں کو معرض خطر میں ڈالتے اور اپنی قوم سے پرانے اور پر نفع تعلقات کو توڑ لیتے اُس وقت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تنگی اور عسر اور کس نپیر سد اور کس نشناسد کا زمانہ تھا اور آئندہ کی امیدیں باندھنے کے لئے کسی قسم کے قرائن و علامات موجود نہ تھے سو انہوں نے اس غریب درویش کا ( جو دراصل ایک عظیم الشان بادشاہ تھا ) ایسے نازک زمانہ میں وفاداری کے ساتھ محبت اور عشق سے بھرے ہوئے دل سے جو دامن پکڑا جس زمانہ میں آئندہ کے اقبال کی تو کیا امید خود اس مرد مصلح کی چند روز میں جان جاتی نظر آتی تھی یہ وفاداری کا تعلق محض قوت ایمانی کے جوش سے تھا جس کی مستی سے وہ اپنی جانیں دینے کے لئے ایسے کھڑے ہو گئے جیسے سخت درجہ کا پیاسا چشمہ شیریں پر بے اختیار کھڑا ہو جاتا ہے۔ سو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسی طرح جو وہ حارث آئے گا تو وہ مومنین کو تیر و تبر سے مدد نہیں دے گا بلکہ مومنین قریش کی اس مخصوص حالت اور اس مخصوص ماجرا کی طرح جو مکہ میں اُن پر گذرتا تھا جبکہ اُن کے ساتھ دوسری قوموں میں سے کوئی نہ تھا اور نہ ہتھیار استعمال کئے جاتے تھے بلکہ صرف قوت ایمانی اور نور عرفانی کی چپکاریں گفتار اور کردار سے دکھلا رہے تھے اور انہیں کے ذریعہ سے مخالفوں پر اثر ڈال رہے تھے یہی طریق اس حارث کا بھی مومنوں کو اپنی پناہ میں لانے کے بارہ میں ہوگا کہ وہ اپنی قوت ایمانی اور نور عرفانی کے آثار و انوار دکھلا کر مخالفین کے منہ بند کرے گا اور مستعد دلوں پر اس کا اثر ڈالے گا اور اس کی قوت ایمانی اور نور عرفانی کا چشمہ جیسا شجاعت و استقامت وصدق وصفا و محبت و وفا کی ۱۰۵