ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 153
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۳ ازالہ اوہام حصہ اول جس کو ایک الگ اُمت دی گئی آسمان سے اتر آئے گا۔ اس جگہ یا درکھنا چاہیے کہ امام محمد اسمعیل صاحب جو اپنی صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت صرف اس قدر حدیث بیان کر کے چپ کر گئے کہ امامکم منکم۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دراصل حضرت اسمعیل بخاری صاحب کا یہی مذہب تھا کہ وہ ہر گز اس بات کے قائل نہ تھے کہ بیچ بیچ مسیح ابن مریم آسمان سے اُتر آئے گا بلکہ انہوں نے اس فقرہ میں جو امامکم منکم ہے صاف اور صریح طور پر اپنا (۹۷) مذہب ظاہر کر دیا ہے ایسا ہی حضرت بخاری صاحب نے اپنی صحیح میں معراج کی حدیث میں جو ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا حال دوسرے انبیا سے آسمانوں پر لکھا ہے تو اس جگہ حضرت عیسی کا کوئی خاص طور پر مجسم ہونا ہرگز بیان نہیں کیا بلکہ جیسے حضرت ابراہیم رو سے بہتا ہوگا ایسا ہی روحانی امور کے بیان کرنے اور روحانی اور عقلی مجنتوں کو مخالفوں پر پورا کرنے کے لئے بڑے زور سے رواں ہوگا اور وہ چشمہ اُسی چشمہ کا ہمرنگ ہو گا جو قریش (۱۰۲) کے مقدس بزرگوں صدیق اور فاروق اور علی مرتضی کو ملا تھا جن کے ایمان کو آسمان کے فرشتے بھی تعجب کی نگہ سے دیکھتے تھے اور جن کے صافی عرفان میں سے اس قدرعلوم وانوار و بركات وشجاعت و استقامت کے چشمے نکلے تھے کہ جس کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں سو ہمارے سید و مولیٰ فرماتے ہیں کہ وہ حارث بھی جب آئے گا تو اسی ایمانی چشمہ عرفانی منبع کے ذریعہ سے قوم کے پودوں کی آبپاشی کرے گا اور اُن کے مرجھائے ہوئے دلوں کو پھر تازہ کر دے گا اور مخالفوں کے تمام بے جا الزاموں کو اپنی صداقت کے پیروں کے نیچے چل ڈالے گا ۱۰۷ کی تب اسلام پھر اپنی بلندی اور عظمت دکھائے گا اور بے حیا ختر برقیل کئے جاویں گے اور مومنین کو وہ عزت کی کرسی مل جائے گی جس کے وہ مستحق تھے ۔ الغرض حدیث نبوی کی یہ تشریح ہے جو اس جگہ ہم نے بیان کر دی اور اسی کی طرف وہ الہام اشارہ کرتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ اور اسی کی طرف وہ الہام بھی اشارہ کرتا ہے جو اس عاجز کی نسبت بحوالہ ایک حدیث نبوی کے جو پیشگوئی کے طور پر اس عاجز کے حق میں ہے خدائے تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے جو براہین میں درج ہے اور (۱۰۸ وہ یہ ہے لو كان الايمان معلقًا بالقريا لنـا لـه رجل من فارس انّ الذين