ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 151

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۱ ازالہ اوہام حصہ اول یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب کوئی حدیث اپنے کسی مفہوم کی رو سے قرآن شریف کے بینات سے مخالف واقع ہو تو قرآن شریف پر ایمان لانا مقدم ہے کیونکہ حدیث کا مرتبہ قرآن شریف کے مرتبہ سے ہرگز مساوی نہیں اور جو کچھ حدیثوں کے بارہ میں ایسے احتمال پیدا ہو سکتے ہیں جو ۹۳ حدیثوں کے وثوق کے درجہ کو کمزور کریں ان احتمالوں میں سے ایک بھی قرآن شریف کی نسبت عائد نہیں ہو سکتا پس کیوں نہ ہم ہر حال میں قرآن شریف کو ہی مقدم رکھیں جس کی صحت پر تمام قوم کو اتفاق اور جس کے محفوظ چلے آنے کے لئے اعلیٰ درجہ کے دلائل ہمارے پاس ہیں اور ہمارے علماء پر یہ بات لازم و واجب ہے کہ قبل اس کے کہ اس بارہ میں اس عاجز پر کوئی (۹۴) اعتراض کریں پہلے قرآن شریف اور احادیث کے مضامین میں پوری پوری تطبیق و توفیق کر کے اس کی جماعت متفرق ہو جائے اس لئے آنحضرت مسلم پہلے سے تاکید کرتے ہیں کہ اے مومنو تم پر اُس حارث کی مدد واجب ہے ایسا نہ ہو کہ تم کسی کے بہکانے سے اس سعادت سے محروم رہ جاؤ۔ اس جگہ جو پیغمبر خدا صلعم نے بیان فرمایا جو مومنوں کو اُس کے ظہور سے قوت پہنچے گی اور اس کے میدان میں کھڑے ہو جانے سے اس تفرقہ زدہ جماعت میں ایک استحکام کی صورت پیدا ہو جائے گی اور وہ سپر کی طرح اُن کے لئے ہو جائے گا اور اُن کے قدم جم جانے کا موجب ہوگا جیسا کہ مکہ میں اسلام کے قدم جمنے کے لئے صحابہ کہار موجب ہو گئے تھے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تیغ اور تیر سے حمایت اسلام نہیں کرے گا اور نہ اس کام کے لئے بھیجا جائے گا کیونکہ مکہ میں بیٹھ کر (۱۰۳) جو مومنین قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی تھی جس حمایت میں کوئی دوسری قوم کا آدمی اُن کے ساتھ شریک نہیں تھا الا شاذ و نادر و ہ صرف ایمانی قوت اور عرفانی طاقت کی حمایت تھی نہ کوئی تلوار میان سے نکالی گئی تھی اور نہ کوئی نیزہ ہاتھ میں پکڑا گیا تھا بلکہ ان کو جسمانی مقابلہ کرنے سے سخت ممانعت تھی صرف قوت ایمانی اور نور عرفان کے چمکدار ہتھیار اور اُن ہتھیاروں کے جو ہر جو صبر اور استقامت اور محبت اور اخلاص اور وفا اور معارف الہیہ اور حقائق عالیہ دینیہ اُن کے پاس موجود تھے لوگوں کو دکھلاتے تھے گالیاں سنتے تھے جان کی دھمکیاں دے کر ڈرائے جاتے تھے اور سب طرح ۱۰۳ کی ذلتیں دیکھتے تھے پر کچھ ایسے نشہ عشق میں مدہوش تھے کہ کسی خرابی کی پروا نہیں رکھتے تھے اور کسی بلا سے ہراساں نہیں ہوتے تھے۔ دنیوی زندگی کے رو سے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے