ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 150

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۵۰ ازالہ اوہام حصہ اوّل جہاں تک میں سوچتا ہوں یقینی طور پر یہ بات متنقش ہے کہ اب تک ہمارے مولویوں نے حدیثوں کو قرآن کے ساتھ تطبیق دینے کے لئے ایک ذرہ توجہ مبذول نہیں فرمائی جس طرف (۹۲) کسی اتفاق سے خیال کا رجوع ہو گیا اُسی پر زور دیتے چلے گئے ہیں۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ ہمارے علماء کے لئے یہ امر کچھ سہل یا آسان بات نہیں کہ وہ قرآن شریف اور اپنے خیالات میں جوخواہر الفاظ حدیثوں سے انہوں نے پیدا کئے ہیں تطبیق و توفیق کر کے دکھلا سکیں بلکہ جس وقت وہ اس طرف متوجہ ہوں گے تو اُن کا نور قلب یا یوں کہو کہ کانشنس خود انہیں ملزم کرے گا کہ وہ ان خیالات کو جو جسمانی طور پر اُن کے دلوں میں منقش ہیں ہرگز ہر گز نصوص بینہ قرآنیہ سے مطابق نہیں کر سکتے اور نہ قرآن شریف کی ان آیات میں کوئی راہ تاویل کی کھول سکتے ہیں اور ۱۰۰ اور دین اسلام ٹیکس کی طرح پڑا ہوگا اور چاروں طرف سے مخالفوں کے حملے شروع ہوں گے۔ یہ شخص اسلام کی عزت کام کرنے کا ا ا ا ا ا ا اور یونین کو ہال کی زبان سے جانے کےلئے بجوش ایمان کھڑا ہوگا اور نور عرفان کی روشنی سے طاقت پا کر انکو مخالفوں کے حملوں سے بچائے گا اور اُن سب کو اپنی حمایت میں لے لے گا اور ایسا انہیں ٹھکانا دے گا جیسے قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا یعنی دشمن کے ہر ایک الزام اور ہر یک باز پرس اور ہر یک طلب ثبوت کے وقت میں سب مومنوں کے لئے سپر کی طرح ہو جائے گا اور اپنے اُس قومی ایمان سے جو نبی کی اتباع سے اُس نے حاصل کیا ہے صدیق اور فاروق اور حیدر کی طرح اسلامی برکتوں اور استقامتوں کو دکھلا کر مومنوں کے امن میں آجانے کا موجب ہوگا۔ ہر ایک مومن پر واجب ہے جو اس کی مدد کرے یا یہ کہ اس کو قبول کر لیوے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک ایسا عظیم الشان سلسلہ اس حارث کے سپرد کیا جائے گا جس میں قوم کی امداد کی ضرورت ہوگی ۔ جیسا کہ ہم رسالہ فتح اسلام میں اس سلسلہ کی پانچوں شاخوں کا مفصل ذکر کر آئے ہیں اور نیز اس جگہ یہ بھی اشار تا سمجھایا گیا ہے کہ وہ حارث بادشاہوں یا امیروں میں سے نہیں ہوگا تا ایسے مصارف کا اپنی ذات سے متحمل ہو سکے اور اس تاکید شدید کے کرنے سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس حارث کے ظہور کے وقت جو مثیل مسیح ہونے کا دعوی کرے گا لوگ امتحان میں پڑ جائیں گے اور بہتیرے اُن میں سے مخالفت پر کھڑے ہوں گے اور مدد دینے سے روکیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ