ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 149
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۹ ازالہ اوہام حصہ اول قصور نہیں ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرى ما سوائے اس کے یہ بات بھی نہایت غور کے قابل ہے کہ یہ خیال کہ سچ سچ مسیح بن مریم ہی بہشت سے نکل کر دنیا میں (۹۰) آجائیں گے تصریحات قرآنیہ سے بکلی مخالف ہے۔ قرآن شریف تین جگہ حضرت مسیح کا فوت ہو جانا کھلے کھلے طور پر بیان کرتا ہے اور حضرت مسیح کی طرف سے یہ عذر پیش کرتا ہے کہ عیسائیوں نے جو انہیں اپنے زعم میں خدا بنایا تو اس سے صحیح پر کوئی الزام نہیں کیونکہ وہ اس ضلالت کے زمانہ سے پہلے فوت ہو چکا تھا ۔ غرض تعلیم قرآن تو یہ ہے کہ مسیح مدت سے فوت ہو چکا ہے اب اگر ہمارے علماء کو قرآن شریف کی نسبت حدیثوں کے ساتھ زیادہ پیار ہے تو اُن پر یہ فرض ہے کہ احادیث کے ایسے معنے کریں جن سے قرآن شریف کے مضمون کی تکذیب لازم نہ آوے میرے خیال میں اس مقام میں در حقیقت کوئی ظاہری جنگ و جدل مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی فوج ہوگی کہ اس حارث کو دی جائیگی جیسا کہ کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھا مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ، مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اُس دوسرے کی طرف رُخ کیا جو چھت کے قریب اور (۹۸) آسمان کی طرف تھا اور اُسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے، وہ میری اس بات کو سنکر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر چہ پانچیزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدائے تعالی چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پا سکتے ہیں اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةِ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِاِذْنِ اللهِ " پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے مگر خدائے تعالی کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اُس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی (99) دوسرے وقت دکھایا جائے۔ اب بقیہ ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ حارث جب ظاہر ہوگا تو وہ آل محمد کو ( آل محمد کے فقرہ کی تفسیر بیان ہو چکی ہے ) قوت اور استواری بخشے گا اور ان کی پناہ ہو جائے گا یعنی ایسے وقت میں کہ جب مومنین غربت کی حالت میں ہوں گے الانعام: ۱۶۵ البقرة : ۲۵۰