ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 146

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۶ ازالہ اوہام حصہ اول مگر افسوس کہ وہ لوگ بہت تھوڑے ہیں اور اکثر یہی جنس ہماری قوم میں بکشت پھیلی ہوئی ہے کہ جو جسمانی خیالات پر گرے جاتے ہیں نہیں سمجھتے کہ خدائے تعالیٰ کا عام قانونِ قدرت (۸۵) جو اس کی وحی اور اس کے مکاشفات کے متعلق ہے صریح صریح اُن کے زعم کے مخالف شہادت دے رہا ہے صدہا مرتبہ خوابوں میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ ایک چیز نظر آتی ہے اور دراصل اُس سے مراد کوئی دوسری چیز ہوتی ہے ۔ ایک شخص کو انسان خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ آگیا اور پھر صبح اس کا کوئی ہمرنگ آجاتا ہے۔ انبیاء کی کلام میں تمثیل کے ساتھ یا استعارہ کے طور پر بہت باتیں ہوتی ہیں دیکھو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات (۸۲) امہات المومنین کو فر مایا تھا کہ تم میں سے پہلے اس کی وفات ہوگی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے فرمایا کہ جب میں دنیا میں تھا تو میں اُمیدوار تھا کہ خدائے تعالیٰ ضرور کوئی ایسا آدمی پیدا کرے گا پھر حضرت عبد اللہ صاحب مرحوم مجھ کو ایک وسیع مکان کی طرف لے گئے جس میں ایک جماعت راستبازوں اور کامل لوگوں کی بیٹھی ہوئی تھی لیکن سب کے سب مسلح اور سپاہیانہ صورت میں ایسی چستی کی طرز سے بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے تھے کہ گویا کوئی جنگی خدمت بجالانے کے لئے کسی ایسے حکم کے منتظر بیٹھے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے پھر اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔ یہ رویا صالحہ جو در حقیقت ایک کشف کی قسم ہے استعارہ کے طور پر انہیں علامات پر دلالت کر رہے ہیں جو مسیح کی نسبت ہم ابھی بیان کر آئے ہیں یعنی مسیح کا خنزیروں کو قتل کرنا اور علی العموم تمام کفار کو مارنا انہیں معنوں کی رو سے ہے کہ وہ حجت الہی اُن پر پوری کرے گا اور بینہ کی تلوار سے اُن کو حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے بکثرت ہونا چاہیے۔(ناشر)