ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 147
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۴۷ ازالہ اوہام حصہ اول اور ان تمام اہل بیت کو اس حدیث کے سننے سے یہی یقین ہو گیا تھا کہ در حقیقت لمبے ہاتھوں سے اُن کا لمبا ہونا ہی مراد ہے یہاں تک کہ آنجناب کی ان پاک دامن بیویوں نے با ہم ہاتھ ناپنے شروع کئے لیکن جب سب سے پہلے زینب رضی اللہ عنہا نے وفات پائی تب انہیں سمجھ آیا کہ لمبے ہاتھوں سے ایثار اور سخاوت کی صفت مراد ہے جو زینب رضی اللہ عنہا پر سب کی (۸۷) نسبت زیادہ غالب تھی۔ اور یہ خیال کہ تناسخ کے طور پر حضرت مسیح بن مریم دنیا میں آئیں گے سب سے زیادہ رڈی اور شرم کے لائق ہے تناسخ کے ماننے والے تو ایسے شخص کا دنیا میں دوبارہ آنا تجویز کرتے ہیں جس کے تزکیہ نفس میں کچھ کسر رہ گئی ہو لیکن جو لوگ بکلی مراحل کمالات طے کر کے اس دنیا سے سفر کرتے ہیں وہ بزعم اُن کے ایک مدت دراز کے لئے مکتی خانہ میں داخل کئے جاتے ہیں۔ ۸۸ قتل کر دے گا واللہ اعلم بالصواب ۔ اور حارث کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ (۹۳ پانچ بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ وہ نہ سیف کے ساتھ نہ سنان کے ساتھ بلکہ اپنی قوت ایمان کے ساتھ اور اپنے نور عرفان اور برکات بیان کے ساتھ حق کے طالبوں اور سچائی کے بھوکوں پیاسوں کو تقویت دے گا اور اپنی مخلصانہ شجاعت اور مومنانہ شہادتوں کی وجہ سے اُن کے قدم کو استوار کر دے گا اس کے موافق جو مومنین قریش نے مکہ معظمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو قبول کر کے اور اپنے سارے زور اور سارے اخلاص اور کامل ایمان کے آثار دکھلانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوئے دعوت کو قوت دے دی تھی اور اسلام کے پیروں کو مکہ معظمہ میں جما دیا تھا۔ دوسری علامت یہ کہ وہ حارث اور وراء النہر میں سے ہو گا جس سے مطلب یہ ہے کہ سمر قندی یا ۹۴ بخاری الاصل ہوگا۔ تیسری علامت یہ ہے کہ وہ زمینداری کے ممیز خاندان میں سے اور کھیتی کرنے والا ہوگا۔ چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں ظاہر ہوگا کہ جس وقت میں آل محمد یعنی اتقیائے مسلمین جو سادات قوم وشرفائے ملت ہیں کسی حامی دین اور مبارز میدان کے محتاج ہونگے ۔ آل محمد کے لفظ میں ایک افضل اور طیب جز کو ذکر کر کے کل افراد جو پاکیزگی اور طہارت میں اس جز سے مناسبت رکھتے ہیں اس کے اندر داخل کئے گئے ہیں جیسا کہ یہ عام طریقہ متکلمین ہے کہ بعض اوقات ایک چیز کو ذکر کر کے کل اُس سے مراد لیا جاتا ہے۔ پانچویں علامت اس حارث کی یہ ہے کہ امیروں اور بادشاہوں اور با جمعیت لوگوں کی صورت پر (۹۵) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' جز “ہونا چاہیے۔(ناشر)