ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 134

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۴ ازالہ اوہام حصہ اول گیا ہو پورا ہو جائے حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہوتا مثلاً مسیح کی نسبت بعض بائیل کی پیشگوئیوں میں یہ درج تھا کہ وہ بادشاہ ہو گا لیکن چونکہ مسیح غریبوں اور مسکینوں کی صورت پر ظاہر ہوا اس لئے ۶۵) یہودیوں نے اس کو قبول نہ کیا اور اس رد اور انکار کی وجہ صرف الفاظ پر ستی تھی کہ انہوں نے بادشاہت کے لفظ کو فقط ظاہر پر محمول کر لیا۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ کی توریت میں ہمارے سید و مولی حد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ پیشگوئی درج تھی کہ وہ بنی اسرائیل میں سے اور اُن کے بھائیوں میں سے پیدا ہو گا اس لئے یہودی لوگ اس پیشگوئی کا منشا یہی سمجھتے رہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے پیدا ہو گا حالانکہ بنی اسرائیل کے بھائیوں سے بنی اسماعیل مراد ہیں خدائے تعالیٰ قادر تھا کہ بجائے بنی اسرائیل کے بھائیوں کے بنی اسماعیل ہی لکھ دیتا اور نہ کوئی ایسی بات ہے کہ جو تصنع اور بناوٹ سے گھڑنی پڑتی ہے بلکہ یہ عادت انبیاء کی شائع متعارف ہے کہ دو روح القدس سےپر ہوکر مالوں اور ستاروں میں بولا کرتے ہیں اور وی ابی کو یہی طرز پسند آئی ہوئی ہے کہ اس جسمانی عالم میں جو کچھ آسمان سے اتارا جاتا ہے اکثر اس میں استعارات و مجازات پر ہوتے ہیں عام طور پر جو ہر ایک فرد بشر کو کوئی نہ کوئی تھی خواب آجاتی ہے جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ بیان کی گئی ہے اُس کے اجزا پر بھی اگر نظر ڈال کر دیکھو تو شاذ و نا در کوئی ایسی خواب ہوگی جو استعارات اور مجازات سے بکلی خالی ہو۔ اب یہ بھی جانا چاہیئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اُتریں گے یہ لفظ ابتدا سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آیا ہے کیونکہ بظاہر کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کو دمشق سے کیا مناسبت ہے اور دمشق کو مسیح سے کیا خصوصیت ۔ ہاں اگر یہ لکھا ہوتا کہ میں مکہ معظمہ میں اُترے گا یا مدینہ منورہ میں نازل ہوگا تو ان ناموں کا ظاہر پر حمل کرنا موزوں بھی ہوتا۔ کیونکہ مکہ معظمہ خانہ خدا کی جگہ اور مدینہ منورہ رسول اللہ کا پایہ تخت ہے مگر دمشق میں تو کوئی ایسی خوبی کی بات نہیں جس کی وجہ سے تمام امکنہ متبرکہ چھوڑ کر نزول کے لئے صرف دمشق کو مخصوص کیا جائے۔ اس جگہ بلاشبہ استعارہ کے طور پر کوئی مرادی معنے مخفی ہیں جو ظاہر نہیں کئے گئے اور یہ عاجز ابھی اس بات کی تفتیش کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا کہ وہ معنے کیا ہیں کہ اسی اثناء میں میرے ایک دوست