ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 135

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۵ ازالہ اوہام حصہ اول تا کروڑ با آدمی ہلاکت سے بچ جاتے مگر اُس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اس کو ایک عقدہ درمیان میں رکھ کر صادقوں اور کا ذبوں کا امتحان منظور تھا اسی بنا پر اور اسی مدعا کی غرض سے تمثیل کے پیرایہ میں یا استعارہ کے طور پر بہت باتیں ہوتی ہیں جن پر نظر ڈالنے والے دوگروہ (۶۸) ہو جاتے ہیں ایک وہ گروہ کہ جو فقط ظاہر پرست اور ظاہر بین ہوتا ہے اور استعارات سے بکلی منکر ہوکر ان پیشگوئیوں کے ظہور کو ظاہری صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے کہ جو وقت پر حقیقت حقہ کے ماننے سے اکثر بے نصیب اور محروم رہ جاتا ہے بلکہ سخت درجہ کی عداوت اور اور محب واثق مولوی حکیم نورالدین صاحب اس جگہ قادیان میں تشریف لائے اور انہوں نے اس بات کے لئے درخواست کی کہ جو مسلم کی حدیث میں لفظ دمشق و نیز اور ایسے چند مجمل الفاظ ہیں اُن کے انکشاف کے لئے جناب الہی میں توجہ کی جائے لیکن چونکہ ان دنوں میں میری طبیعت علیل اور دماغ نا قابل جد و جہد تھا اس لئے میں اُن تمام مقاصد کی طرف توجہ کرنے سے مجبور رہا (۶۵) صرف تھوڑی سی توجہ کرنے سے ایک لفظ کی تشریح یعنی دمشق کے لفظ کی حقیقت میرے پر کھولی گئی اور نیز ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حراث آنے والا جو ابو داؤد کی کتاب میں لکھا ہے یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی در حقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کی رُو سے ایک ہی ہیں ۔ یعنی ان دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو یہ عاجز ہے۔ سواوّل میں دمشق کے لفظ کی تعبیر جو الہام کے ذریعہ سے مجھ پر کھولی گئی بیان کرتا ہوں پھر بعد اس کے ابو داؤد والی پیشگوئی جس طور سے مجھے سمجھائی گئی ہے بیان کروں گا۔ پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے ﴿۲۶﴾ قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یز یدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیر وہیں جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الہی کی کچھ عظمت نہیں جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنارکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی اُن کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدائے تعالیٰ کا موجود ہونا اُن کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو انہیں سمجھ نہیں آتا اور چونکہ طبیب کو