ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 133

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۳۳ ازالہ اوہام حصہ اول صورت اور رنگ کا نہیں ہے جس صورت پر لوگ خیال کر رہے ہیں اور با وجود عام طور پر استعارات کے پائے جانے کے جن سے حدیثیں پر ہیں ۔ اور مکاشفات اور رویاء صالحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے بھری پڑی ہیں ۔ پھر دمشق کے لفظ سے 19 دمشق ہی مراد رکھنا دعوی بلا دلیل و التزام مالا یلزم ہے ۔ اور یہ بھی یا درکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ کی پیشگوئیوں میں بعض امور کا اخفا اور بعض کا اظہار ہوتا ہے اور ایسا (۱۲) ☆ ہونا شاذ و نادر ہے کہ من کل الوجوہ اظہار ہی ہو کیونکہ پیشگوئیوں میں حضرت باری تعالی کے ارادہ میں ایک قسم کی خلق اللہ کی آزمائش بھی منظور ہوتی ہے اور اکثر پیشگوئیاں اس آیت کا مصداق ہوتی ہیں کہ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِي بِهِ كَثِيرًا اسی وجہ سے (۱۳ ہمیشہ ظاہر پرست لوگ امتحان میں پڑ کر پیشگوئی کے ظہور کے وقت دھوکا کھا جاتے ہیں اور زیادہ تر انکار کرنے والے اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو یہ چاہتے ہیں کہ حرف حرف پیشگوئی کا ظاہری طور پر جیسا کہ سمجھا (۶۴) استعارات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات اور خوابوں میں پائے جاتے ہیں وہ (1) حدیثوں کے پڑھنے والوں پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہیں کبھی کشفی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں دو سونے کے کڑے پہنے ہوئے دکھائی دئے اور اُن سے دو کذاب مراد لئے گئے جنہوں نے جھوٹے طور پر پیغمبری کا دعوی کیا تھا اور کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رویا اور کشف میں گائیاں ذبح ہوتی نظر آئیں اور ان سے مراد وہ صحابہ تھے جو جنگ اُحد میں شہید ہوئے اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک بہشتی خوشہ انگورا بو جہل کے لئے آپکو دیا گیا ہے تو آخر اس سے مراد مکر مہ نکلا اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کشفی طور پر نظر آیا کہ گویا آپ نے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے کہ وہ آپ کے ﴿۲۲﴾ خیال میں یمن اللہ تھا مگر در حقیقت اس زمین سے مراد مدینہ منورہ تھا۔ ایسا ہی بہت سی نظیریں دوسرے انبیاء کے مکاشفات میں پائی جاتی ہیں کہ بظاہر صورت اُن پر کچھ ظاہر کیا گیا اور دراصل اس سے مراد کچھ اور تھا سو انبیا کے کلمات میں استعارہ اور مجاز کا دخل ہونا کوئی شاذ و نا در امر نہیں ہے البقرة : ۲۷ مراد یمامہ ہے مطابق صفحہ ۲۰۴۔ (ناشر)