ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 121

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۱ ازالہ اوہام حصہ اول دوسری نکتہ چینی یہ ہے کہ مالیخولیا یا جنون ہو جانے کی وجہ سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو میں کسی کے مجنون کہنے یا دیوانہ نام رکھنے سے ناراض نہیں ہو سکتا بلکہ خوش ہوں۔ کیونکہ ہمیشہ سے ناسمجھ لوگ ہر ایک نبی اور رسول کا بھی اُن کے زمانہ میں یہی نام رکھتے آئے ہیں اور قدیم سے ربانی مصلحوں کو قوم کی طرف سے یہی خطاب ملتا رہا ہے اور نیز اس وجہ سے بھی مجھے خوشی پہنچی ہے کہ آج وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو براھین میں طبع ہو چکی ہے کہ تجھے مجنون بھی کہیں گے لیکن حیرت تو اس بات میں ہے کہ اس دعوئی میں کون سے جنون کی علامت پائی جاتی ہے کون سی خلاف عقل بات ہے ﴿۳۷﴾ جس کی وجہ سے معترضین کو جنون ہو جانے کا شک پڑ گیا اس بات کا فیصلہ ہم معترضین کی ہی کانشنس اور عقل پر چھوڑتے ہیں اور اُن کے سامنے اپنے بیانات اور اپنے مخالفوں کی حکایات رکھ دیتے ہیں کہ ہم دونوں گروہ میں سے مجنون کون ہے اور عقل سلیم کس کی طرز تقریر کو مجانین کی باتوں کے مشابہ بجھتی ہے اور کس کے بیانات کو قول موجہ قرار دیتی ہے۔ میرا بیان مسیح موعود کی نسبت جس کی آسمان سے اُترنے اور دوبارہ دنیا میں آنے کی انتظار کی جاتی ہے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے یہ ہے کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں قرآن شریف تو ہمیشہ کے لئے اُس کو دنیا سے رخصت کرتا ہے البتہ بعض حدیثوں میں جو استعارات سے پُر ہیں مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیشگوئی بیان کیا گیا ہے سو ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ در حقیقت مسیح ابن (۳۸) مریم کا ہی دوبارہ دنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جو مسیح ابن مریم کے زمانہ کا ہمرنگ ہو گا ایک شخص