ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 120
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۰ ازالہ اوہام حصہ اول فرما گئے ہیں کہ میں بھی تہذیب حقیقی کے بارے میں ایک رسالہ تالیف کر کے شائع کروں گا کیونکہ مولوی صاحب موصوف اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ دراصل تہذیب حقیقی کی راہ وہی راہ ہے جس پر انبیاء علیہم السلام نے قدم مارا ہے جس میں سخت الفاظ کا داروئے تلخ کی طرح گاہ گاہ استعمال کرنا حرام کی طرح نہیں سمجھا گیا بلکہ ایسے درشت الفاظ کا اپنے محل پر بقدیر ضرورت و مصلحت استعمال میں لانا ہر یک مبلغ اور واعظ کا فرض وقت ہے جس کے ادا کرنے میں کسی واعظ کا سستی اور کا بلی اختیار کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ غیر اللہ کا خوف جو شرک میں داخل ہے اس کے دل پر غالب اور ایمانی حالت اس کی ایسی کمزور اور ضعیف ہے جیسے ایک کیڑے کی جان کمزور اور ضعیف ہوتی ہے سو میں اُس دوست کے لئے دعا کرتا ہوں کہ خدائے تعالی اس تالیف کے ارادہ میں روح القدس سے اُس کی مدد فرما دے۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ وہ اپنے اس رسالہ کا نام تہذیب ہی رکھیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے اس دوست کو یہ جوش ایک مولوی صاحب کے اعتراض سے پیدا ہوا ہے جو قادیاں کی طرف آتے وقت اتفاقاً لاہور میں مل گئے تھے جنہوں نے اس عاجز کی نسبت اسی بارہ میں اعتراض کیا تھا اے خداوند قادر مطلق اگر چہ قدیم سے تیری یہی عادت اور یہی سنت ہے کہ تو بچوں اور امیوں کو سمجھ عطا کرتا ہے اور اس دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کی آنکھوں اور دلوں پر سخت پر دے تاریکی کے ڈال دیتا ہے مگر میں تیری جناب میں عجز اور تضرع سے عرض کرتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے بھی ایک جماعت ہماری طرف کھینچ لا جیسے تو نے بعض کو کھینچا بھی ہے اور (۳۶) ان کو بھی آنکھیں بخش اور کان عطا کر اور دل عنایت فرماتا وہ دیکھیں اور سنیں اور سمجھیں اور تیری اس نعمت کا جو تو نے اپنے وقت پر نازل کی ہے قدر پہنچا کر اس کے حاصل کرنے کے لئے متوجہ ہو جائیں۔ اگر تو چاہے تو تو ایسا کر سکتا ہے کیونکہ کوئی بات تیرے آگے ان ہونی نہیں۔ آمین ثم آمین۔ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' پہچان ہونا چاہیے۔ (ناشر )