ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 122

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۲۲ ازالہ اوہام حصہ اوّل اصلاح خلائق کے لئے دنیا میں آئے گا جو طبع اور قوت اور اپنے منصبی کام میں مسیح بن مریم کا ہمرنگ ہو گا اور جیسا کہ مسیح بن مریم نے حضرت موسیٰ کے دین کی تجدید کی اور وہ حقیقت اور مغز توریت کا جس کو یہودی لوگ بھول گئے تھے اُن پر دوبارہ کھول دیا ایسا ہی وہ مسیح ثانی مثیل موسیٰ کے دین کی جو جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں تجدید کرے گا اور یہ مثیل موسیٰ کا مسیح اپنی سوانح میں اور دوسرے تمام نتائج میں جو قوم پر ان کی اطاعت یا ان کی سرکشی کی حالت میں مؤثر ہوں گے اس مسیح سے بالکل مشابہ ہوگا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا اب جو امر کہ خدائے تعالیٰ ۳۹ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں ۔ مسلمانوں کا پُرانے خیالات کے موافق جو اُن کے دلوں میں جمے ہوئے چلے آتے ہیں یہ دعوی ہے کہ مسیح بن مریم سچ مچ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ دھرے ہوئے آسمان سے اُترے گا اور منارہ مشرقی دمشق کے پاس آٹھہرے گا اور بعض کہتے ہیں کہ منارہ پر اُترے گا اور وہاں سے مسلمان لوگ زینہ کے ذریعہ سے اس کو نیچے اُتاریں گے اور فرشتے اُسی جگہ سے رخصت ہو جائیں گے اور عمدہ پوشاک پہنے ہوئے اُترے گا یہ نہیں کہ ننگا ہو۔ اور پھر مہدی کے ساتھ ملاقات اور مزاج پرسی ہوگی اور باوجود اس قدر مدت گزرنے کے وہی پہلی عمر بتیس یا تینتیس برس کی ہوگی اس قدر گردش ماہ وسال نے اُس کے جسم و عمر پر کچھ اثر نہ کیا ہو گا اُس کے ناخن اور بال وغیرہ اس قدر سے نہ بڑھے ہوں گے جو آسمان پر اُٹھائے جانے کے وقت موجود تھے اور کسی قسم کا تغیر اس کے وجود میں نہ آیا ہو گا لیکن زمین (۳) پر اُتر کر پھر سلسلہ تغیرات کا شروع ہو گا وہ کسی قسم کا جنگ و جدل نہیں کرے گا بلکہ اس کے منہ کی ہوا میں ہی ایسی تاثیر ہو گی کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچے گی کا فر مرتے جائیں گے یعنی اُس کے دم میں ہی یہ خاصیت ہوگی کہ زندوں کو مارے جیسی پہلے یہ خاصیت تھی کہ مردوں کو زندہ کرے۔ پھر ہمارے علماء اپنے اس پہلے قول کو فراموش کر کے یہ دوسرا قول جو اس کا نقیض ہے پیش کرتے ہیں کہ وہ جنگ اور جدل بھی کرے گا اور دجال یک چشم