ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 104
روحانی خزائن جلد ۳ ۱۰۴ ازالہ اوہام حصہ اول تو ثابت ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہر گز نہیں مرے گا۔ وہ زندگی بخش با تیں جو میں کہتا ہوں اور وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتی ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لئے آب حیات کا حکم رکھتی ہے دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی تو تمہارے پاس اس جرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اُس کے سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا زمین پر اس کو کوئی بند نہیں کر سکتا سو تم مقابلہ کے لئے جلدی نہ کرو اور دیدہ و دانستہ اس الزام کے نیچے اپنے تئیں داخل نہ کرو جو خدائے تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا بدظنی اور بدگمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ اور پھر اس دکھ کے مقام میں تمہیں یہ کہنا پڑے کہ مَا لَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْأَشْرَارِ آں نہ دانائی بود کز نا شکیبائی نفس خویشتن را زودتر بر ضد و انکار آورد صبر بائد طالب حق را کہ تم اندر جہاں ہر چہ پنہاں خاصیت دارد ہماں بار آورد اند کے نور فراست باید این جامرد را تا صداقت خویشتن را خود باظهار آورد صادقاں را صدق پنہانی نے ماند نہاں نور پنہاں برجبیں مرد انوار آورد ہر که از دست کسے خورد است کاسات وصال ہر زمان رویش سرور واصل یار آورد اے مسلمانوں! اگر تم سچے دل سے حضرت خداوند تعالی اور اس کے مقدس رسول علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہو اور نصرت الہی کے منتظر ہو تو یقیناً سمجھو کہ نصرت کا وقت آگیا اور یہ کارو بارانسان کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسانی منصوبہ نے اس کی بنا ڈالی بلکہ یہ وہی صبح صادق ظہور پذیر ہوگئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا قریب تھا کہ تم کسی مہلک گڑھے میں جاپڑتے مگر اس کے بنی اسرائیل: ۳۷ ص: ۶۳