ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 105

روحانی خزائن جلد ۳ ۱۰۵ ازالہ اوہام حصہ اول با شفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اٹھا لیا سو شکر کرو اور خوشی سے اچھلو جو آج تمہاری تازگی کا دن آگیا۔ خدائے تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاہب کی طرح اسلام بھی (2) ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو جس میں موجودہ برکت کچھ بھی نہ ہو وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے نور پہنچتا ہے کیا اندھیری رات کے بعد نئے چاند کے چڑھنے کے انتظار نہیں ہوتے کیا تم سلح کی رات کو جو ظلمت کی آخری رات ہے دیکھ کر کم نہیں کرتے کہ گل نیا چاند نکلنے والا ہے۔ افسوس کہ تم اس دنیا کے ظاہری قانون قدرت کو تو خوب سمجھتے ہو مگر اس روحانی قانون فطرت سے جو اُسی کا ہم شکل ہے بکلی بے خبر ہو۔ اے نفسانی مولویو! اور خشک زاہدو! تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا کھلنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ ہمیشہ بند ہی رہیں اور تم پیر مغاں بنے رہو اپنے دلوں پر نظر ڈالو اور اپنے اندر کو ٹولو کیا تمہاری زندگی دنیا پرستی سے منزہ ہے کیا تمہارے دلوں پر وہ زنگار نہیں جس کی وجہ سے تم ایک تاریکی میں پڑے ہو کیا تم اُن فقیہوں اور فریسیوں سے کچھ کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں لگے ہوئے تھے پھر کیا یہ سچ نہیں کہ تم مثیل مسیح کے لئے مسیحی (1) مشابہت کا ایک گونہ سامان اپنے ہاتھ سے ہی پیش کر رہے ہو تا خدائے تعالیٰ کی حجت ہر یک طور سے تم پر وارد ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر کا مومن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے بہت سے لوگ مشرق اور مغرب سے آئیں گے اور اس خوان نعمت سے حصہ لیں گے لیکن تم اسی زنگ کی حالت میں ہی مرو گے کاش تم نے کچھ سوچا ہوتا ۔ اور مشابہت کے لئے مسیح کی پہلی زندگی کے معجزات جو طلب کئے جاتے ہیں اس بارے میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیا ہے اور اُس کا ظہور ہوگا ما سوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افترا کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” نور پہنچاتا ہے “ہونا چاہیے۔(ناشر)