عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 710 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 710

۔ہر وقت وہ ایک نیا قتیل چاہتا ہے اس کے چہرہ کا غازہ شہیدوں کا خون ہوتا ہے۔یہ سعادت چونکہ ہماری قسمت میں تھی رفتہ رفتہ ہماری نوبت بھی آپہنچی۔میں ہر آن کربلا میں پھرتا ہوں سو حسین میرے سینے میں ہیں۔میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی، میرے جسم پر تمام ابرار کے خلعت ہیں۔وہ مہربانیاں جو خدا نے میرے ساتھ کیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں۔جو جام اُس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا وہی جام اُس نے کامل طور سے مجھے بھی دیا ہے۔وہ میرا دل لے گیااور اپنی الفت مجھے دے دی اور وحی کے ذریعہ آپ میرا استاد بن گیا۔میں نے اُس کی وحی میں عجب اثر دیکھا یعنی اُس سورج کا چہرہ اُس چاند کے طفیل نظر آگیا۔میں نے مخلوق سے جو رنج اور تکلیفیں دیکھیں وہ ان لذتوں کے آگے کیا چیز ہیں۔میں نے خلقت سے علیحدہ ہو کر یار کا جلوہ دیکھا۔ایک شان کے بعد دوسری شان ظاہر ہوئی۔جو کچھ خدا کی وحی سے میں سنتا ہوں خدا کی قسم میں اُسے غلطی سے پاک سمجھتا ہوں۔میں اُسے قرآن کی طرح غلطیوں سے پاک جانتا ہوں اور یہی میرا ایمان ہے۔میں نے خدا کو اسی کے ذریعہ سے پہچانا ہے خدا کی اس آگ سے ہی میں نے اپنے دل کو گداز کیا ہے۔خدا کی قسم یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ خدائے قدوس اور واحد کے منہ سے نکلا ہوا ہے۔جو کچھ مجھ پر خدا کی طرف سے ظاہر ہوا ہے وہ ایک آفتاب ہے جو سینکڑوں انوار اپنے ساتھ رکھتا ہے۔یہ ہے میرا خدا جو رَبُّ الارباب ہے اگر میں اس سے رو گردانی کروں تو پھر کس کی طرف رخ کروں؟۔اگرچہ انبیاء بہت ہوئے ہیں۔مگر میں معرفتِ الٰہی میں کسی سے کم نہیں ہوں۔میں یقینا مصطفی کا وارث ہوں اور اس حسین محبوب کے رنگ میں رنگین ہوں۔وہ یقین جو عیسیٰ کو اُس کلام پر تھا جو اُس پر نازل ہوا تھا۔اور وہ یقین جو موسیٰ کو تورات پر تھا اور وہ یقین جو سیّدالمرسلین کو حاصل تھا صفحہ ۴۷۸۔میں یقین کے معاملہ میں اُن میں سے کسی سے کم نہیں ہوں جو جھوٹ بولتا ہو وہ لعنتی ہے