عصمتِ انبیاءؑ — Page 709
صفحہ ۴۷۷۔عشق نے گھوڑے کو اتنا تیز دوڑایا کہ اس مشت خاک کا کچھ بھی باقی نہ رہا۔دلبر اور دلآرام پر قربان اور ننگ وناموس سے بالکل بے پروا ہو جاتا ہے۔وہ عشق سے بھرپور اور حرص سے خالی ہوتا ہے ایک ہی آواز نے اس کا کام تمام کر دیا ہے۔اسی یقینی آواز نے جو اس کے کانوں میں پڑی بڑا کام کیا اور اسے غیر اللہ سے منقطع کر دیا۔وہ غیروں کے دائرہ سے باہر نکل گیا اور غیر اللہ سے بے تعلق ہو گیا۔وہ اپنی ہستی کی آلودگی سے پاک ہو گیا اور خود پرستی کی قید سے آزاد۔یار نے اس طرح اسے اپنی کمند میں لے لیا کہ وہ دوسروں سے کوئی واسطہ ہی نہیں رکھتا۔فنا کے راستے پر چل پڑا اور اس کی یاد میں سر سے پیر تک گم ہو گیا۔دلبر کا ذکر اُس کی غذا ہو گیا بلکہ سارا دلبر اُس کے لئے ہو گیا۔اُس نے سوائے دلدار کے اپنی ہر خواہش کو جلا دی اور محبوب کے سوا ہر چیز کی طرف سے آنکھ بند کر لی۔اُس کے چہرہ پر جان ودل فدا کر دیا اور اس کے وصل کو ہی اصلی مدعا بنا لیا۔وہ مر گیا اور اُس نے اپنے تئیں فنا کر دیا۔عشق جوش میں آیا اور اُس نے سب کام کر دئیے۔اپنی خودی سے الگ ہو گیا۔سیلاب بہت زور کا تھا اسے بہا کر لے گیا۔جب بدن کمزور ہو گیا تو محبوب آگیا۔جب دل ہاتھ سے چلا گیا تو محبوب تشریف لے آیا۔محبوب کا عشق اُس کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگا اور ابر رحمت اس کے کوچہ میں برسنے لگا۔اُس یقین کی وجہ سے جو الہام نے پیدا کیا تھا اُس کے دل میں ایک گلزار کھل گیا۔ہر نئی بات کا ایک سبب ہوا کرتا ہے اس کو وہی سمجھتا ہے جس کے دل کو طلب لگی ہوئی ہو۔پس دوست کی محبت کی ایسی شورش جو خودی کے آثار تک مٹا ڈالے۔ہرگز میسر نہیں آسکتی سوائے دلبر اور دلدار کی باتوں کے۔وہ عشق جو دیدار سے پیدا ہوا کرتا ہے کبھی کبھی گفتار سے بھی پیدا ہوتا ہے۔خاص کردلدار کی وہ باتیں جو اسرار کے طور پر عشق پیدا کرنے والی خاصیت اپنے اندر رکھتی ہیں۔ان باتوں کے فدائی صرف ایک دو یا ہزار انسان ہی نہیں ہیں بلکہ اس کے کشتے بے شمار ہیں