عصمتِ انبیاءؑ — Page 711
۔لیکن میں ربّ غنی کی طرف سے آئینہ کی مانند ہوں اُس مدینہ کے چاند کی صورت دنیا کو دکھانے کے لئے۔جو کچھ (الہام) اُس یار نے میرے دل میں ڈالا اُس میں نہ شیطان نے ملاوٹ کی نہ نفس نے۔اُس خدا کی طرف سے خالص کلام نازل ہوا اس لئے میرا دل انوار سے بھر گیا۔وہ تاریک وحی جلا دینے کے قابل ہے جو یقین پر مبنی نہ ہو۔لیکن میری یہ وحی یقیناً خدا کی طرف سے ہے میرا سب کام یقین کی وجہ سے ہی ٹھیک ہو گیا۔میں ایسے زمانہ میں آیا ہوں جب بادِ خزاں نے دین کے باغ کو یکسر اجاڑ دیا تھا۔مشائخ میں سوائے جھوٹ کے اور کچھ نہ رہا تھا اور عالم بھی اندھوں کی طرح معذور ہو گئے تھے۔وہ مال دولت اور عزت کے عاشق ہو گئے تھے اور دل اس بادشاہ کی محبت سے خالی تھا۔ان ایام میں جو اندھیری رات کی طرح کے تھے خدا نے ہماری قوم کو حالت زار میں دیکھا۔پس مجھے اہل دنیا میں سے چن لیا اور میرے دل میں اپنی پاک وحی پھونکی۔میرے دل میں عشق کا جوش ڈال دیا، وہ آپ میرا بن گیا اور ہر تعلق غیر کا توڑ ڈالا۔مجھے دیوانہ کر کے عقلیں بخشیں اور ایک دروازہ بند کر کے ہزاروں دروازے کھول دئیے۔مخلوق اور لوگ مجھے نصیحت کرتے ہیں کہ میں دوست سے تعلق منقطع کر لوں۔میں نابینا نہیں ہوں کہ اندھوں کی طرح باغ چھوڑ کر کنویں کو اختیار کر لوں۔وہ تازہ میوہ جو محبوب کا عطیہ ہے میں اسے اس مردار دنیا کے لئے کیونکر پھینک دوں۔اگر ایک جہان میری دشمنی پر کھڑا ہو جائے اور تلوار پکڑ لے کہ میرا خون گرا دے۔تب بھی میں ایسا نہیں ہوں کہ اُسے چھوڑ دوں میرا وہ ماہ رو یار تو میری جان ہے۔میں اُس کی گلی سے اپنا ڈیرہ ہرگز نہ اٹھاؤں گا بزدل لوگ اور ہوتے ہیں اور میں اور ہوں۔محبوب کے عشق نے مجھے بے پروا کر دیا ہے۔ان دشمنوں کے حملوں کے غم سے۔میرے اندر ہر وقت عشق کا ایک جوش ہے دیکھیے یہ گریبان کب تک سلامت رہتا ہے!۔نصیحت کرنے والوں کو میرے حال کی کچھ خبر نہیں۔میرے مصفّاپانی کی طرف ان کا گزر نہیں ہوا۔میں ُنور کا ایک طوفان لے کر صبح کی طرح آیا ہوں تا کہ یہ اندھیرا میرے نور کی وجہ سے دور ہو جائے