عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 675 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 675

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۷۱ عصمت انبياء عليهم السلام چشمہ نے شاداب نہیں کیا بلکہ ایک طرح کی سڑی ہوئی بد بو اس سے آتی ہے مگر وہ شخص جس کو یہ نور دیا گیا ہے اور جس کے اندر یہ چشمہ پھوٹ نکلا ہے اس کی علامات سے یہ ایک علامت ہے کہ اس کا جی ہر وقت یہی چاہتا ہے کہ ہر ایک بات میں اور ہر یک قول میں اور ہر یک فعل میں خدا سے قوت پاوے اُسی میں اُس کی لذت ہوتی ہے اور اسی میں اس کی راحت ہوتی ہے وہ اس کے بغیر جی ہی نہیں سکتا۔ اور قوت پانے کے لئے جو الفاظ خدا کے کلام میں مقرر کئے گئے ہیں وہی ہیں جو استغفار کے نام سے مشہور ہیں۔ استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہواور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے (۱۸۸) حلقہ کے اندر لے لے یہ لفظ غفو سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغفِر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے کیونکہ خدا انسان کو پیدا کر کے اس سے الگ نہیں ہوا بلکہ وہ جیسا کہ انسان کا خالق ہے اور اس کے تمام قومی اندرونی اور بیرونی کا پیدا کرنے والا ہے ویسا ہی وہ انسان کا قیوم بھی ہے یعنی جو کچھ بنایا ہے اس کو خاص اپنے سہارے سے محفوظ رکھنے والا ہے پس جبکہ خدا کا نام قیوم بھی ہے یعنی اپنے سہارے سے مخلوق کو قائم رکھنے والا اس لئے انسان کے لئے لازم ہے کہ جیسا کہ وہ خدا کی خالقیت سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی وہ اپنی پیدائش کے نقش کو خدا کی قیومیت کے ذریعہ سے بگڑنے سے بچاوے کیونکہ خدا کی خالقیت نے انسان پر یہ احسان کیا کہ اس کو