عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 674 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 674

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۷۰ انبياء عليهم السلام سے خدا کی طرف جھکا رہتا ہے اور اپنے تئیں ہر دم خدا سے مدد پانے کا محتاج دیکھتا ہے اور اس کی ان صفات کاملہ کے تصور سے یقین رکھتا ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہوگا کیونکہ خدا کے ۱۸۷) فیض اور کرم اور جود کے بہت سے نمونے اس کا چشم دید مشاہدہ ہوتا ہے اس لئے اس کی دعا ئیں قوت اور یقین کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور اس کا عقد ہمت نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے اور آخر کار بمشاہدہ آلاء اور نعماء الہی کے نوریقین بہت زور کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اس کی ہستی بکلی جل جاتی ہے اور باعث کثرت تصوّر عظمت اور قدرت الہی کے اس کا دل خدا کا گھر ہو جاتا ہے اور جس طرح انسان کی روح اس کے زندہ ہونے کی حالت میں کبھی اس کے جسم سے جدا نہیں ہوتی اسی طرح خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے جو یقین اس کے اندر داخل ہوا ہے وہ کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہوتا اور ہر وقت پاک روح اس کے اندر جوش مارتی رہتی ہے اور اُسی پاک روح کی تعلیم سے وہ بولتا اور حقائق اور معارف اُس کے اندر سے نکلتے ہیں اور خدائے ذو العزّت و الجبروت کی عظمت کا خیمہ ہر وقت اُس کے دل میں لگا رہتا ہے اور یقین اور صدق اور محبت کی لذت ہر وقت پانی کی طرح اس کے اندر بہتی رہتی ہے جس کی آبپاشی سے ہر یک عضو اس کا سیراب نظر آتا ہے آنکھوں میں ایک جدا سیرابی مشہور ہوتی ہے پیشانی پر الگ ایک نور اُس سیرابی کا لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور چہرہ پر محبت الہی کی ایک بارش برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور زبان بھی اُس نور کی سیرابی سے پورا حصہ لیتی ہے۔ اسی طرح تمام اعضاء پر ایک ایسی شگفتگی نظر آتی ہے جیسا کہ ابر بہار کے برسنے کے بعد موسم بہار میں ایک دلکش تازگی درختوں کی ٹہنیوں اور چنوں اور پھولوں اور پھلوں میں محسوس ہوتی ہے لیکن جس شخص میں یہ روح نہیں اتری اور یہ سیرابی اُس کو حاصل نہیں ہوئی اُس کا تمام جسم مردار کی طرح ہوتا ہے اور یہ سیرابی اور تازگی اور شگفتگی جس کی قلم تشریح نہیں کر سکتی یہ اس مردار دل کومل ہی نہیں سکتی جس کو نور یقین کے