عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 676 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 676

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۷۲ عصمت انبياء عليهم السلام خدا کی صورت پر بنایا۔ پس اسی طرح خدا کی قیومیت نے تقاضا کیا کہ وہ اس پاک نقش انسانی کو جو خدا کے دونوں ہاتھوں سے بنایا گیا ہے پلید اور خراب نہ ہونے دے لہذا انسان کو تعلیم دی گئی کہ وہ استغفار کے ذریعہ سے اُس کی قیومیت سے قوت طلب کرے پس اگر دنیا میں گناہ کا وجود بھی نہ ہوتا تب بھی استغفار ہوتا کیونکہ دراصل استغفار اس لئے ہے کہ جو خدا کی خالقیت نے بشریت کی عمارت بنائی ہے وہ عمارت مسمار نہ ہو اور قائم رہے اور بغیر خدا کے سہارے کے کسی چیز کا قائم رہنا ممکن نہیں۔ پس انسان کے لئے یہ ایک طبعی ضرورت تھی جس کے لئے استغفار کی ہدایت ہے اسی کی طرف قرآن شریف میں یہ اشارہ فرمایا گیا ہے اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لے یعنی وہ خدا ہی ہے جو قابل پرستش ہے کیونکہ وہی زندہ کرنے والا ہے اور اسی کے سہارے سے انسان زندہ رہ سکتا ہے یعنی انسان کا ظہور ایک خالق کو چاہتا تھا اور ایک قیوم کو تا خالق اس کو پیدا کرے اور قیوم اس کو بگڑنے سے محفوظ رکھے سو وہ خدا خالق بھی ہے اور قیوم بھی۔ اور جب انسان پیدا ہو گیا تو خالقیت کا کام تو پورا ہو گیا مگر قیومیت کا کام ہمیشہ کے لئے ہے اسی لئے دائمی استغفار کی ضرورت ۱۸۹ پیش آئی غرض خدا کی ہر ایک صفت کے لئے ایک فیض ہے پس استغفار صفت قیومیت کا فیض حاصل کرنے کے لئے کرتے رہنے کی طرف اشارہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بات کی مدد چاہتے ہیں کہ تیری قیومیت اور ربوبیت ہمیں مدد دے اور ہمیں ٹھوکر سے بچاوے تا ایسا نہ ہو کہ کمزوری ظہور میں آوے اور ہم عبادت نہ کر سکیں۔ اس تمام تفصیل سے ظاہر ہے کہ استغفار کی درخواست کے اصل معنی یہی ہیں کہ وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ کوئی حق فوت ہو گیا ہے بلکہ اس خواہش سے ہوتی ہے کہ کوئی حق فوت نہ ہو اور انسانی فطرت اپنے تئیں کمزور دیکھ کر طبعاً خدا سے طاقت طلب کرتی ہے جیسا کہ بچہ البقرة : ۲۵۶ ۲ الفاتحة : ۳