عصمتِ انبیاءؑ — Page 673
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۹ عصمت انبياء عليهم السلام ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس کے احسان اور حسن سے تمتع اٹھایا ہو اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ احسان سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ اخلاقی نمونے ہیں جو کسی انسان نے اپنی ذات کی نسبت بچشم خود دیکھے ہوں مثلاً بیکسی اور عاجزی اور کمزوری اور یتیمی کے وقت میں خدا اس کا متوتی ہوا ہو اور حاجتوں اور ضرورتوں کے وقت میں خدا نے خود اس کی حاجت براری کی ہو اور سخت اور کمر شکن غموں کے وقت میں خدا نے خود اس کی مدد کی ہو اور خدا طلبی کے وقت میں بغیر توسط کسی مرشد اور ہادی کے خود خدا نے اُس کو رہنمائی کی ہو اور حسن سے مراد بھی وہی خدا کی صفات حسنہ ہیں جو احسان کے رنگ میں بھی ملاحظہ ہوتی ہیں۔ مثلاً خدا کی قدرت کا ملہ اور وہ رفق اور وہ لطف اور وہ ربوبیت اور وہ رحم جو خدا میں پایا جاتا ہے اور وہ عام ربوبیت اس کی جو مشاہدہ ہو رہی ہے اور وہ عام نعمتیں اس کی جو انسانوں کے آرام کے لئے بکثرت موجود ہیں اور وہ علم اس کا جس کو انسان نبیوں کے ذریعہ سے حاصل کرتا اور اس کے ذریعہ سے موت اور تباہی سے بچتا ہے اور اس کی یہ صفت کہ وہ بیقراروں در ماندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور اس کی یہ خوبی کہ جو لوگ اس کی طرف جھکتے ہیں وہ اُن سے زیادہ اُن کی طرف جھکتا ہے یہ تمام صفات خدا کی اس کے حسن میں داخل ہیں اور پھر وہی صفات ہیں کہ جب ایک شخص خاص طور پر ان سے فیضیاب بھی ہو جاتا ہے تو وہ اس کی نسبت احسان بھی کہلاتی ہیں گو دوسرے کی نسبت فقط حسن میں داخل ہیں۔ اور جو شخص خدا تعالیٰ کی ان صفات کو جو درحقیقت اُس کا حسن اور جمال ہے احسان کے رنگ میں بھی دیکھ لیتا ہے تو اُس کا ایمان نہایت درجہ قوی ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی طرف ایسا کھنچا جاتا ہے جیسا کہ ایک لوہا آہن رُبا کی طرف کھنچا جاتا ہے اُس کی محبت خدا سے بہت بڑھ جاتی ہے اور اس کا بھروسا خدا پر بہت قوی ہو جاتا ہے اور چونکہ وہ اس بات کو آزمالیتا ہے جو اُس کی تمام بھلائی خدا میں ہے اس لئے اس کی امیدیں خدا پر نہایت مضبوط ہو جاتی ہیں اور وہ طبعا نہ کسی تکلف اور بناوٹ