عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 672 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 672

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۸ عصمت انبياء عليهم السلام ان کی طرف کھنچا جاتا ہے مثلاً ایک شخص ایک ایسا پہلوان بہادر سرآمد روزگار نکلا ہے کہ کوئی شخص گشتی میں اُس کے ساتھ برابری نہیں کر سکتا اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ شیروں کو بھی ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور میدان جنگ میں اپنی شجاعت اور طاقت سے ہزار آدمی کو بھی شکست دے سکتا ہے اور ہزاروں دشمنوں کے محاصرہ میں آ کر جان بچا کر نکل جاتا ہے تو ایسا شخص بالطبع دلوں کو اپنی طرف کھینچے گا اور لوگ ضرور اُس سے محبت کریں گے اور گولوگوں کو اس کی اس بے مثل پہلوانی اور شجاعت سے کچھ بھی فائدہ نہ ہو بلکہ وہ کسی دور دراز ملک کا رہنے والا ہو جس کو دیکھا بھی نہ ہو یا اس زمانہ سے وہ پہلے گزر چکا ہومگر تا ہم لوگ اس کے قصوں کو محبت سے سنیں گے اور اس کے ان کمالات کی وجہ سے اس سے محبت کریں گے سو اس محبت کی کیا وجہ ہے؟!! کیا اس نے کسی پر احسان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ احسان تو اس نے کسی پر نہیں کیا پس بجز حسن کے اس کی کوئی اور وجہ نہیں پس کچھ شک نہیں کہ یہ تمام روحانی خوبیاں حسن میں داخل ہیں اور ان کا نام حسنِ اخلاق اور حسن صفات ہے جو حسنِ اعضا کے مقابل پر واقع ہے اور احسان میں اور حسن اخلاق اور حسن صفات میں یہ فرق ہے کہ کسی شخص کے نیک خلق یا نیک صفت کو اُس وقت اور اُس شخص کی نسبت احسان کے نام سے موسوم کیا جائے گا جبکہ ایک شخص اس نیک خلق یا نیک صفت کے اثر سے متمتع ہو جائے اور اس سے کوئی فائدہ اٹھالے پس وہ شخص جو اس نیک خلق یا نیک صفت سے فائدہ اٹھائے گا۔ اس کی نسبت وہ نیک خلق اور نیک صفت احسان ہو گا جس کا ذکر بطور مدح اور شکر کے وہ کرے گا لیکن دوسرے لوگوں کی ۱۸۶ نسبت وہ نیک خلق اس کا حسن میں داخل ہو گا۔ مثلاً صفت فیاضی اور سخاوت اس شخص کے حق میں احسان ہے جو فیضیاب ہوا مگر دوسروں کی نظر میں حسن صفات سمجھا جائے گا۔ غرض خدا کا قانون قدرت اور ایسا ہی صحیفہ فطرت جس کا سلسلہ قدیم سے اور انسان کی بنیاد کے وقت سے چلا آتا ہے وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خدا کے ساتھ تعلق شدید پیدا