عصمتِ انبیاءؑ — Page 671
روحانی خزائن جلد ۱۸ عصمت انبياء عليهم السلام کی وجہ سے کیونکہ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اُس وقت سے آج تک تمام بنی آدم کا متفق علیہ یہ تجربہ ہے کہ احسان محبت کی تحریک کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ بنی آدم اپنی طبائع میں بہت سا اختلاف رکھتے ہیں تاہم جمیع افراد انسانی کے اندر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ احسان سے ضرور بقدر اپنی استعداد کے متاثر ہو کر محسن کی محبت دل میں پیدا کر لیتے ہیں یہاں تک کہ نہایت خسیس اور سنگدل اور کمینہ فرقہ انسانوں کا جو چور اور ڈاکو اور دیگر جرائم پیشہ لوگ ہیں جو بذریعہ مختلف قسم کے جرائم کے وجہ معاش پیدا کرتے ہیں وہ بھی احسان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ مثلاً ایک چور جس کا نقب زنی کام ہے اگر اس کو رات کے وقت دو گھروں میں نقب لگانے کا موقع ملے اور ان دونوں میں سے ایک ایسا شخص ہو جو کبھی اس نے اس کے ساتھ نیکی کی تھی اور دوسرا محض اجنبی ہو تو اس چور کی فطرت با وجود سخت ناپاک ہونے کے ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرے گی کہ نقب کے وقت اجنبی کے گھر کو تو عمداً چھوڑ دے اور اپنے اس دوست کے گھر میں نقب لگاوے بلکہ انسان تو انسان حیوانات اور (۱۸۵) درندوں میں بھی یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ احسان کرنے والے پر حملہ نہیں کرتے چنانچہ اس بارہ میں کتے کی سیرت اور خصلت اکثر انسانوں کے تجربہ میں آچکی ہے کہ کس قدر وہ اپنے محسن کی اطاعت اختیار کرتا ہے پس اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ احسان موجب محبت ہے ایسا ہی حسن کا موجب محبت ہونا بھی ظاہر ہے کیونکہ حسن کے مشاہدہ میں ایک لذت ہے اور انسان ایسی چیز کی طرف طبعاً میل کرتا ہے جس سے اس کو لذت پیدا ہوتی ہے اور حسن سے مراد صرف جسمانی نقوش نہیں ہیں کہ آنکھ ایسی ہو اور ناک ایسا ہو اور پیشانی ایسی ہو اور رنگ ایسا ہو بلکہ اس سے مراد ایک ذاتی خوبی اور ذاتی کمال اور ذاتی لطافت ہے جو کمال اعتدال اور بے نظیری سے ایسے مرتبہ پر واقع ہو جو اس میں ایک کشش پیدا ہو جائے پس تمام وہ خوبیاں جن کو انسانی فطرت تعریف میں داخل کرتی ہے حسن میں داخل ہیں اور انسان کا دل