عصمتِ انبیاءؑ — Page 670
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۶۶ عصمت انبياء عليهم السلام تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہو گئی تھی اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے گری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی پس اس طرح پر آپ نے اس ۱۸۴) شرط کے ایک حصہ کو پورا کیا جو شفیع کے لئے ایک لازمی شرط ہے اور آخری فقرہ آیت مذکورہ بالا کا یہ ہے کہ میرا جینا اور مرنا اس خدا کے لئے ہے جو تمام جہان کی پرورش میں لگا ہوا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ میری قربانی بھی تمام جہان کی بھلائی کے لئے ہے ایسا ہی دوسرا حصہ شرط شفاعت کا ہمدردی مخلوق ہے اور ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ آیت دَنِی فَتَدَلی کا دوسرا لفظ یعنی تدلی اسی ہمدردی پر دلالت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ تدلی کا ثلاثی مجرد ولو ہے اور دلو کہتے ہیں ڈول کو کوئیں کے اندر ڈبونا تا پانی اس میں بھر جائے اور دوسرے معنے دلو کے یہ ہیں کہ کسی کو اپنا شفیع پکڑنا۔ پس تدلی کے یہ معنی ہیں کہ شفاعت کے لئے دور افتادہ لوگوں کی طرف بکمال ہمدردی و غمخواری توجہ کرنا اور ان سے بہت نزدیک ہو کر ان کا مکدر پانی اٹھانا اور پاک پانی ان کو عطا کرنا۔ اور چونکہ خدا سے محبت کرنا اور اس کی محبت میں اعلیٰ مقام قرب تک پہنچنا ایک ایسا امر ہے جو کسی غیر کو اُس پر اطلاع نہیں ہو سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے افعال ظاہر کئے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے در حقیقت تمام چیزوں پر خدا کو اختیار کر لیا تھا اور آپ کے ذرہ ذرہ اور رگ اور ریشہ میں خدا کی محبت اور خدا کی عظمت ایسے رچی ہوئی تھی کہ گویا آپ کا وجود خدا کی تجلیات کے پورے مشاہدہ کے لئے ایک آئینہ کی طرح تھا۔ خدا کی محبت کا ملہ کے آثار جس قدر عقل سوچ سکتی ہے وہ تمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود تھے۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک شخص جو کسی دوسرے شخص ۔ محبت کرتا ہے وہ یا تو اس کے کسی احسان کی وجہ سے اُس سے محبت کرتا ہے اور یا اُس کے حسن