اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 421
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۵ اسلامی اصول کی فلاسفی اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۔ ذلِكَ الدِّينُ الْقَيْمُ : یعنی وہ دین جس میں خدا کی معرفت صحیح اور اس کی پرستش احسن طور پر ہے وہ اسلام ہے اور اسلام انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور خدا نے انسان کو اسلام پر پیدا کیا اور اسلام کے لئے پیدا کیا ہے یعنی یہ چاہا ہے کہ انسان اپنے تمام قومی کے ساتھ اس کی پرستش اور اطاعت اور محبت میں لگ جائے ۔ اسی وجہ سے اس قادر کریم نے انسان کو تمام قومی اسلام کے مناسب حال عطا کئے ہیں۔ ان آیتوں کی تفصیل بہت بڑی ہے اور ہم کسی قدر پہلے سوال کے تیسرے حصہ میں لکھ بھی چکے ہیں لیکن اب ہم مختصر طور پر صرف یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ اندرونی اور بیرونی اعضاء دیئے گئے ہیں یا جو کچھ قو تیں عنایت ہوئی ہیں، اصل مقصودان سے خدا کی معرفت اور خدا کی پرستش اور خدا کی محبت ہے۔ اسی وجہ سے انسان دنیا میں ہزاروں شغلوں کو اختیار کر کے پھر بھی بجز خدا کے اپنی سچی خوشحالی کسی میں نہیں پاتا۔ بڑا دولتمند ہو کر، بڑا عہدہ پا کر ، بڑا تاجر بن کر، بڑی بادشاہی تک پہنچ کر ، بڑا فلاسفر کہلا کر آخر ان دنیوی گرفتاریوں سے بڑی حسرتوں کے ساتھ جاتا ہے اور ہمیشہ دل اس کا دنیا کے استغراق سے اس کو ملزم کرتا رہتا ہے اور اس کے مکروں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں کبھی اس کا کانشنس اس سے اتفاق نہیں کرتا ۔ ایک دانا انسان اس مسئلہ کو اس طرح بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس چیز کے قومی ایک اعلیٰ سے اعلیٰ کام کر سکتے ہیں اور پھر آگے جا کر ٹھہر جاتے ہیں۔ وہی اعلیٰ کام اس کی پیدائش کی علت غائی سمجھی جاتی ہے مثلاً بیل کا کام اعلیٰ سے اعلیٰ قلبہ رانی یا آبپاشی یا بار برداری ہے ۔اس سے زیادہ اس کی قوتوں میں کچھ ثابت نہیں ہوا۔ سو بیل کی زندگی کا مدعا یہی تین چیزیں ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی ال عمران :۲۰ الروم : ٣١